Skip to main content

وضو کے بعد مسنون اذکار کو اپنانے کی تلقین


  ✨آئیے اپنی اصلاح کیجئے


♦ *وضو کے بعد کے مسنون اذکار اور چند بدعات:* ♦


*☝💥پہلے بدعات ملاحظہ فرمائیں۔۔۔👇*


⛔❌👈  *بعض لوگ وضو کے دوران میں ہر عضو دهوتے ہوئے دعا پڑهتے ہیں، یہ بدعت ہے امام نووی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:*


⛔❌👈  *" ہر عضو کے لیے مخصوص اذکار کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچه ثابت نہیں ہے"* ❌❌


*(اذکار، باب ما یقول علی وضوء 74/1:5)*


⛔❌👈  *وضو کے دوران میں دعائیں پڑهنا کسی صحیح کسی حدیث سے ثابت نہیں* ❌❌


*📚✨منسون اذکار ملاحظہ فرمائیں👇*


📚💦  *جو شخص اچها وضو کرے اور پهر مندرجہ ذیل 👇👇 دعا پڑهے تو اس کے لیے جنت کے آٹهوں دروازے کهول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہو:*


📚 🍃 *"اشهد ان لا اله الا اللہ وحدہ لا شریك له واشهد ان محمدا عبدہ ورسوله"*


*"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں"*


*مسلم:234* 📖


📚🍃  *وضو کے بعد یہ دعا پڑهنا بهی ثابت ہے:*


♦🍃 *"سبحانك اللهم وبحمدك اشهد ان لا اله الا انت استغفرك و اتوب الیك"*


*🤲"اے اللہ! تو اپنی تعریف کے ساته پاک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں تجه سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں"*


*السنن الکبری للنسائی":9909* 📖 


📌 *وضو سے متعلقہ دیگر مسائل:* 📌



*وضو کے تمام اعضاء کو ایک ایک، دو دو اور تین تین مرتبہ دهونا جائز ہے*

 

*بخاری:159،158،157* 📖 


💦🍃 *اعضائے وضو میں سے کسی عضو کو ایک بار،کسی کو دو بار کسی کو تین بار دهونا بهی جائز ہے*


*مسلم:235* 📖 


💦🍃 *تین سے زیادہ مرتبہ دهونا ہر گز نہیں ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے متعلق پوچها، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو کر کے دکهایا، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ اعضاء دهوئے، پهر فرمایا:*



💦✨  *"یہ وضو کا (صحیح) طریقہ ہے، پس جس نے اس سے زیادہ کیا اس نے بہت برا کیا، حد سے تجاوزکیا اور ظلم کیا"*


*نسائی:140* 📖 


💦🍃 *ہر عضو کو مل کر دهونا چاہیے، تا کہ اچهی طرح صفائی ہو جائے،محض پانی بہا لینے سے صفائی نہیں ہو سکتی*


💦🍃 *تمام اعضاء ترتیب سے دهو نے چا ہییں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ترتیب سے وضو کرتے تهے کبهی ترتیب کے خلاف وضو کرنا ثابت نہیں ایک حدیث میں ہے کہ ابو جبیر الکندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وضو کر نے کا حکم دیا،اس نے چہره دهونے سے ابتداء کی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اپنے چہرے سے وضو شروع نہ کرو،کیونکہ یہ طریقہ کافروں کا ہے"*


*ابن حبان: 1089 - اسنادہ حسن* 📖

آپ کی شیئر کردہ معلومات وضو کے صحیح طریقے، اس کے بعد کے مسنون اذکار، اور وضو کے دوران کی جانے والی بعض غیر ثابت شدہ بدعات کے بارے میں تفصیل فراہم کرتی ہیں۔ آئیے ان نکات کو مزید واضح کرتے ہیں:


1️⃣ وضو کے دوران دعائیں پڑھنا بدعت کیوں؟


بہت سے لوگ وضو کے دوران ہر عضو دھوتے وقت الگ الگ دعائیں پڑھتے ہیں، جیسے چہرہ دھوتے وقت نور مانگنا، ہاتھ دھوتے وقت نیکی کی دعا کرنا وغیرہ۔ لیکن یہ عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ وضو کے ہر عضو کے لیے الگ دعا پڑھنے کی کوئی اصل نہیں، لہٰذا اسے دین میں نیا اضافہ (بدعت) سمجھا جائے گا۔


2️⃣ وضو کے بعد کے مسنون اذکار


✔ وضو کے بعد درج ذیل دعا پڑھنا سنت ہے:

"أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمداً عبده ورسوله"

(مسلم: 234)

یہ دعا پڑھنے والے کے لیے جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔


✔ ایک اور دعا جو وضو کے بعد ثابت ہے:

"سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك"

(سنن النسائي الكبرى: 9909)

یہ استغفار اور اللہ کی حمد پر مشتمل ایک جامع دعا ہے۔


3️⃣ وضو کے دیگر ضروری مسائل


🔹 وضو میں اعضاء دھونے کی تعداد

➖ تمام اعضاء کو ایک، دو یا تین بار دھونا جائز ہے (بخاری: 157-159)

➖ کسی عضو کو ایک بار، کسی کو دو بار اور کسی کو تین بار دھونا بھی جائز ہے (مسلم: 235)

➖ تین سے زیادہ دھونا بدعت اور ناجائز ہے (نسائی: 140)


🔹 وضو میں ترتیب کا خیال رکھنا

➖ چہرہ دھونا وضو کا پہلا رکن ہے۔ اگر کوئی پہلے ہاتھ یا کسی اور عضو کو دھو لے تو یہ کفار کا طریقہ ہے (ابن حبان: 1089)


🔹 ہر عضو کو رگڑ کر دھونا

➖ پانی صرف بہانے سے صفائی مکمل نہیں ہوتی، بلکہ رگڑ کر دھونا ضروری ہے تاکہ نجاست ختم ہو جائے۔


📌 خلاصہ


✔ وضو کے دوران مخصوص دعائیں پڑھنا بدعت ہے۔

✔ وضو کے بعد مسنون اذکار پڑھنا اجر و ثواب کا ذریعہ ہے۔

✔ وضو کے اعضاء ایک، دو یا تین بار دھونا جائز ہے، لیکن تین سے زیادہ بار دھونا بدعت ہے۔

✔ وضو میں ترتیب اور صفائی کا مکمل اہتمام کرنا ضروری ہے۔


یہ تمام باتیں احادیث سے ثابت ہیں، اور ہمیں چاہیئے کہ اپنی عبادات کو نبی ﷺ کے طریقے کے مطابق

 کریں، بغیر کسی غیر ثابت شدہ اضافے کے۔


Comments

Popular posts from this blog

عقل، سکون اور بہترین کارکردگی

      عقل، سکون اور بہترین کارکردگی                              ایک شخص جو کتوں کی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کرواتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مقابلے میں ایک چیتے کو شامل کیا۔۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چیتا خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ ‏جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی۔۔ مالک نے دلچسپ جواب دیا: کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔ ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ 🤲 اے خداوند متعال ہمیں خود کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما اور معاشرے میں بہترین کارکردگی دکھانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ یہ واقعہ ایک گہری نصیحت اور حکمت پر مبنی ہے، جو ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ چیتے کی مثال دراصل ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی...

وہ سختیاں جو آج سکون کا سبب ہیں

 اج پتہ لگا استاد جی ہمارا ذہنی دباؤ کم کر رہے ہوتے تھے اس تصویر میں نظر آنے والی پوزیشن کو انگریزی میں "Forward Bend" یا "Stooping Position" کہا جا سکتا ہے۔ اگر یہ خاص جسمانی ورزش یا پوسچر سے متعلق ہو تو اسے "Standing Ikram Ullah Khan Yousafzai  Forward Fold" بھی کہا جاتا ہے۔ اس پوزیشن میں جھکنے اور جسم کو کھینچنے کی حرکت انسانی جسم کو مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ نیچے اس کے فوائد درج کیے گئے ہیں، جنہیں مختلف ماہرین اور تحقیقی جریدوں میں تسلیم کیا گیا ہے: 1. ریڑھ کی ہڈی کی لچک میں اضافہ یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کو کھینچتی ہے اور انہیں مضبوط بناتی ہے، جس سے جسمانی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے تناؤ کو کم کرتی ہے اور پیٹھ کے درد میں آرام فراہم کرتی ہے (Journal of Yoga and Physical Therapy)۔ 2. خون کے دوران میں بہتری جھکنے کی وجہ سے خون کا بہاؤ سر کی طرف بڑھتا ہے، جو دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔ یہ مشق دماغی سکون اور توجہ میں مددگار ثابت ہوتی ہے (American Journal of Physiology) 3. ...

عملی زندگی میں ذمّہ داری اور غرور

 ذمّہ داری اور غرور میں بنیادی فرق رویے اور نیت کا ہے: 1. ذمّہ داری (Responsibility) ذمّہ دار شخص اپنے فرائض کو ایمانداری، دیانت داری اور احساسِ فرض کے ساتھ پورا کرتا ہے۔ وہ دوسروں کی بہتری اور فلاح کو مدِنظر رکھتا ہے اور اپنے کام کے نتائج کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اپنی کامیابیوں پر شکرگزار ہوتا ہے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتا ہے۔ عاجزی اور برداشت اس کی شخصیت کا حصہ ہوتے ہیں۔ 2. غرور (Arrogance/Pride) مغرور شخص اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے اور اپنی کامیابیوں کو محض اپنی قابلیت کا نتیجہ مانتا ہے۔ وہ دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے اور ان کی آراء کو نظر انداز کرتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ خود کو عقلِ کل سمجھنے کا رویہ اپناتا ہے اور نصیحت قبول کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ نتیجہ ذمّہ داری انسان کو مضبوط اور باوقار بناتی ہے، جبکہ غرور اسے تنہائی، نفرت اور زوال کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک ذمّہ دار انسان عزت کماتا ہے، جبکہ مغرور شخص رفتہ ر فتہ اپنی عزت کھو دیتا ہے۔ ذمّہ داری اور غرور میں بنیادی فرق کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے ان کی وجوہات، اث...