یادداشت کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟ میموری کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟ ہمارے ذہن میں یادداشت memory کے بننے کا عمل انتہائی حیرت انگیز اور بے حد دلچسپ ہے۔ اس پر ایک گہری نظر نہ ڈالنا نا انصافی ہوگی ۔ ہمارا دماغ ایک ریکارڈنگ ڈیوائس کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ اسے Recording cognitive بھی کہہ سکتے ہیں طبی اصطلاح میں اسے Process of Mind process کہا جاتا ہے۔ ویسے تو یہ بہت ہی پیچیدہ عمل ہے مگر موضوع کے اعتبار سے مطلب کی بات یہ ہے کہ ہمارا ذہن حواس خمسہ سے ملنی والی ایک ایک خبر کو، ہر ایک احساس ہر جذبے کو ریکارڈ کر رہا ہے محفوظ کر رہا ہے اور ان احساسات و جذبات کو معلومات data میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ بے حد تیز رفتار عمل ہے کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا کہ سب محفوظ کیا جارہا ہے۔ سارا دن جو مشاہدات حاصل ہوتے ہیں خواہ وہ دیکھنے سے ہوں ، چکھنے سے تعلق رکھتے ہوں ، سونگھنے سے عمل میں آئیں، جو کچھ دیکھا سنا ہو اور جو بھی محسوس کیا ہو وہ عارضییادداشت short term memory کی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے اور رات کو نیند کے دوران غیر ضروری یادیں memories ختم delete کر دی جاتی ہیں تا کہ دماغ پر بوجھ نہ بڑھے۔ اس کے علاوہ جاگنے کے دوران بھی محفوظ کرنے اور بھولنے کا عمل تیزی سے جاری رہتا ہے۔ مثلاً ایک دکاندار گاہکوں کو نبٹاتے ہوئے یہ کبھی یاد نہیں رکھ سکتا کہ اس نے پچھلے تیسرے یا چوتھے گا ہک سے کتنے پیسے لئے اور بقایا کتنے دیئے ۔ اگر یہ غیر ضروری ڈیٹا ختم delete نہ ہو رہا ہو تو آدمی کچھ ہی گھنٹوں میں حواس کھو بیٹھے۔ جو واقعہ یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے اس کی ریکارڈنگ کا طریقہ کار بہت ہی مختلف ہے۔ اسے طویل مدتی یادداشت long term memory کہتے ہیں۔ طویل مدتی یادداشت دماغ میں تب محفوظ ہوتی ہے جب احساس emotion اس خیال سے جڑ جائے connect ہو جائے جو ذہن میں حواس کے ذریعے آیا ہے۔ جیسے ہی خیال جذبے سے احساس سے ملتا ہے یاد memory کے طور پر یادداشت کے خانے میں memory cell میں برسٹ burst ہو جاتا ہے اور ہمیشہ کیلئے محفوظ save ہو جاتا ہے۔ اسے ایسے سمجھیں۔۔۔ اگر آپ دیکھیں کہ سڑک پر کسی بچے کو چوٹ لگی تو یہ واقعہ چونکہ آپ کے جذبات سے نہیں جڑ پایا کیونکہ وہ آپ کا بچہ نہیں ہے اس لیے عارضی یادداشت بنے گی اور نتیجتا آپ اسے کچھ عرصہ کے بعد بھول جائیں گے لیکن خوانخواستہ اگر یہی چوٹ آپ کے بچے کو لگے تو چشم زدن میں یہ منظر جذبات سے مل کر میموری سیل میں برسٹ ہو جائے گا اور ہمیشہ کیلئے آپ کی یادداشت کا حصہ بن جائے گا۔ آپ اس منظر کو بھی ایک مخصوص مدت کے بعد بھول جائیں گے لیکن اچانک طویل مدتکے بعد کسی بھی واقعے کی وجہ سے آپ کو اپنے بچے کی چوٹ یاد آ کر احساس دلائے گی کہ ڈیٹا ڈیلیٹ نہیں ہوا بلکہ آپ کے دماغ کے خوابیدہ حصے تحت الشعور subconscious میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔۔۔ یہ آپ کے حتمی شعور کا حصہ بن چکا ہے۔ فائل ہو چکا ہے۔۔۔ خیال کو یادداشت میں محفوظ ہونے کیلئے ذہنی یادداشت کے خلیات میں جل جاناburst ہو جانا ضروری ہے۔ اس برسٹنگ کیلئے اس شعلے کے لئے خیال کو جس بجلی کی جس انرجی کی ضرورت ہوتی ہے وہ نفس اسے جذبات یعنی emotions کی صورت میں مہیا کرتا ہے۔ اس طرح ہم اپنی زندگی کے تمام اہم اچھے برے واقعات events کو گناہ اور ثواب کے ثبوت evidence کی شکل میں اٹھائے پھر رہے ہیں۔۔۔ کس لئے؟ یقیناً روز قیامت پیش آنے والے اپنے مقدمے کی سماعت کیلئے ۔۔۔
عقل، سکون اور بہترین کارکردگی ایک شخص جو کتوں کی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کرواتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مقابلے میں ایک چیتے کو شامل کیا۔۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چیتا خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی۔۔ مالک نے دلچسپ جواب دیا: کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔ ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ 🤲 اے خداوند متعال ہمیں خود کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما اور معاشرے میں بہترین کارکردگی دکھانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ یہ واقعہ ایک گہری نصیحت اور حکمت پر مبنی ہے، جو ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ چیتے کی مثال دراصل ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی...

Comments