Skip to main content

جب زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی

 


تم پرندوں سے دل بہلایا کرو سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک خطر ناک کھیل ھے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ھوں " یہ تاریخ الفاظ سلطان صلاح الدین نے اپنے چچا زاد بھائی حلیفہ الصالح کے ایک امیر سیف الدین کو لکھے تھے، ان دونوں نے صلیبوں کو در پردہ مدد ز رو جوھرات کالا بیچ دیا اور صلاح الدین ایوبی کو شکست دینے کی سازش کی، امیر سیف الدین اپنا مال و متاع چھوڑ کر بھا گا، اسکے زاتی حیمہ گاہ سے رنگ برنگی پرندے، حسین اور جوان رقصائیں اور گانے والیاں ساز اور سازندے شراب کے مٹکے برامدھوے، سلطان نے پرندوں گانے والیوں اور سازندوں کو آزاد کر دیا اور امیر سیف الدین کو اس مضمون کا حط لکھا دونوں نے کفار کی پشت پناھی کر کہ ان کے ھاتھوں میرا نام و نشان مٹانے کی ناپاک کوشیش کی مگر یہ ہ سوچا کہ تمھاری یہ ناپاک کوشیش عالم اسلام کا بھی نام و نشان مٹا سکتی تھی۔ تم اگر مجھ سے حسد کرتے ھوں تو مجھے قتل کرادیا ھوتا تم مجھ پر دو قاتلانہ حملے کر اچکے ھو ۔ دونوں نا کام ھوے اب ایک اور کوشیش کر کہ دیکھ لو ، ھو سکتا ھے کامیاب ھو جاو۔ اگر تم مجھے یقین دلا دو کہ میرا سر میرے تن سے جدا ھو جاے تو اسلام اور زیادہ سر بلند رھے گا تو رب کعبہ کی قسم میں اپنا سر تمھارے تلوار سے کٹوا نگا اور تمھارے قدموں میں رکھنے کی وصیت کرونگا میں صرف تمھیں یہ بتا دینا چاھتا ھوں کہ کوی غیر مسلم مسلمان کا دوست تھی ھو سکتا، تاریخ تمھارے سامنے ھے اپنا ماضی دیکھو، شاہ فرینک اور ریمانڈ جیسے اسلام دشمن تمھارے دوست اسلیئے ھے کہ تم نے انھیں مسلمانوں کے خلاف جنگ میں اترنے کی شہ اور مدد دی ھے ۔ اگر وہ کامیاب ھو جاتے تو ان کا اگلا شکار تم ھوتے اور اس کے بعد ان کا یہ خواب بھی پورا


ھو جا تھا کہ اسلام صفحہ ہستی سے مٹ جائے ۔ تم جنگجو قوم کے فردھوں فن سپاہ گری تمھارا قومی پیشہ هے م هر مسلمان اللہ کا سپاھی ھے مگر ایمان اور کردار بنیادی شرط ھے۔ تم پرندوں سے دل بہلایا کرو سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک خطر ناک کھیل

ھے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ھوں میں تم سے درخواست کرتا ھوں کہ میرے ساتھ تعاون کرو اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ھو جاؤ، اگر ینھی کر سکو تو میری مخالفت سے باز آجاو ، میں تمھیں کوئی سزا نھی دونگا۔۔۔۔ اللہ


تمھارے گناہ معاف کریں ۔۔۔۔۔ ) صلاح الدین ایوبی ("


ایک یورپی مورح لین پول لکھتا ھے


صلاح الدین کے ھاتھوں جو مال غنیمت لگا اسکا کوئی حساب بھی تھا ، جنگی قیدی بھی بے اندازہ تھے، سلطان نے تما تر مال غنیمت تین حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ جنگیں قیدیوں میں تقسیم کر کہ انکو رھا کر دیا، دوسرا حصہ اپنے سپاھیوں اور غرباء میں تقسیم کیا، اور تیسرا حصہ مدرسہ نظام الملک کو دے دیا، اس نے اسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی تھی۔ ن خود کچھ رکھا اور نہ اپنے کسی جرنیل کو کچھ دیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگی قیدی جن میں بھت سے مسلمان تھے اور باقی غیر مسلم، رھا ھو کر سلطان کے کیمپ میں جمع ھو گیے اور سلطان کی اطاعت قبول کر کہ اپنی خدمات فوج کے لیے پیش کر دی ایوبی کی کشادہ ظرفی اور عظمت دور دور تک مشہور ھو گئ اس سے پہلے حسب بن صباح کے پر اسرار فرقے فدائی جنھیں یورپین مورحین نے قاتلوں کا گروہ لکھا ھے صلاح الدین ایوبی پر دوبارہ قاتلانہ حملے کر چکے تھے لیکن اللہ نے اس اعظیم مرد مجاھد سے بھت کام لینا تھا دونوں بار ایک معجزہ ھوا جس میں یہ مرد مجاهد بال بال بچ گیا سلطان پر تیسرا قاتلانہ حملہ اس وقت ھوا جب وہ اپنے مسلمان بھائیوں اور صلیبوں کی سازش کی چھٹان کو شمشیر سے ریزہ ریزہ کر چکا تھا۔ امیر سیف الدین میدان جنگ سے بھاگ گیا تھا مگر وہ سلطان کے خلاف بعض اور کینہ سے باز بھی آیا۔ اس نے حسن بن صباح کے قاتل فرقے

کی مدد حاصل کی۔

حسن بن صباح کا فرقہ اسلام کی آستین میں سانپ کی طرح پل رھا تھا۔ اس کا تفصیلی تعارف بھت بھی طویل ہے مختصر یہ کہ جس طرح زمین سورج سے دور ھو کر گناھوں کا گہوارہ بن گئی ھے، اسی طرح ایک حسن بن صباح نامی ایک شحص نے اسلام سے الگ ھو کر نبیوں اور پیغمبروں والی عظمت حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا وہ اپنے آپکو مسلمان بھی کہلاتا رھا اور ایسا گروہ بنالیا جو طلسماتی طریقوں سے لوگوں کا اپنا پیروکار بناتا ،اس مقصد کے لیے اس گروہ نے نہایت حسین لڑکیاں نشہ آور جڑی بوٹیاں ھیپناٹزم اور چرب زبانی جیسے طریقے اپناے، بہشت بنائی جس میں جا کر پتھر بھی موم ھو جاتے تھے اپنے مخالفین کو قتل کرانے کے لیے ایک گروہ

تیار کیا قتل کے طریقے حفیہ اور پر اسرار ھوتے تھے، اس فرقے کے افراد اس قدر چلاک زمین اور نڈ رتھے کہ بھیس بدل کر بڑے بڑے جرنیلوں کے باڈی گارڈ بن جاتے تھے اور جب کوئی پر اسرار طریقے سے قتل ھو جاتا تو قاتلوں کو سراغ ھی نھی مل پاتا، کچھ عرصہ بعد یہ فرقہ " قاتلوں کا گروہ کے نام سے مشہور ہوا یہ لوگ سیاسی قتل کے ماھر تھے زھر بھی استعمال کیا کرتے تھے، جو حسین لڑکیوں کے ھاتھوں شراب میں دیا جاتا تھا بھت مدت تک یہ فرقے اسی مقصد کے لیے استعمال ھوتا رھا ۔۔ اسکے پیروکار فدائی کہلاتے تھے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کو نہ تو لڑکیوں سے دھوکہ دیا جا سکتا تھا اور نہ ھی شراب سے ۔ وہ ان دونوں سے نفرت کرتا تھا ، سلطان کو اس طریقے سے قتل تھی کیا جا سکتا تھا۔ اس کو قتل کرنے کا یہی ایک طریقہ تھا کہ اس پر قاتلانہ حملہ کیا جائے، اسکے محافظوں کی موجودگی میں اس پر حملہ بھی کیا جا سکتا تھا، دو حملے نا کام ھو چکے تھے۔ اب جبکہ سلطان کو یہ توقع تھی کہ اسکا چازاد بھائی الصالح اور امیر سیف الدین شکست کھا کر تو بہ کر چکے

ھونگے انھوں نے انتقام کی ایک اور زیر زمین کوشیش کی۔


صلاح الدین نے اس فتح کا جشن منانے کے بجاے حملے جاری رکھے اور تین قصبوں کو قبضے میں

لیا، ان میں غازہ کا مشہور قصبہ تھا، اسی قصبے کے گردو نواح میں ایک روز سلطان صلاح الدین ایوبی ، امیر جاوالا سدی کے جیسے میں دو پہر کے وقت عنودگی کے عالم میں ستا رھے تھے، سلطان نے وہ پگڑی تھی اتاری تھی جو میدان جنگ میں سلطان کے سر کو صحرائی گرمی اور دشمن کے تلوار سے بچا کر رکھتی تھی۔ جیسے کے با هر اسکے محافظوں کا دستہ موجود اور چوکس تھا ، باڈی گارڈ ز کے اس دستے کا کمانڈ رز راسی دیر کے لیے وھاں سے چلا گیا، ایک محافظ نے سلطان کے جیسے میں گرے ھوے پردوں میں سے جھانکا، اسلام کے عظمت کے پاسبان کی آنکھیں بند تھی اور پیٹھ کے بل لیٹا ھوا تھا، اس محافظ نے باڈی گارڈز کی طرف دیکھا، ان میں سے

تین چار باڈی گارڈ ز نے اسکی طرف دیکھا محافظوں نے اپنی آنکھیں بند کر کہ کھولی ) ایک خاص اشارہ ( تین چار محافظ اٹھے اور دو تین باقی باڈی گارڈ زکو باتوں میں لگا لیا، محافظ جیسے میں چلا گیا۔۔۔ اور

حنجر کمر بند سے نکالا۔۔۔ دبے پاؤں چلا اور پھر چیتے کی طرح سوے ھوے سلطان صلاح الدین ایوبی پر جست لگای مینجر والا ھاتھ اوپر اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔

عین اسی وقت سلطان نے کروٹ بدلی، یھی بتایا جاسکتا کہ حملہ آور حنجر کہاں مارنا چاھتا تھا ، دل

میں یا سینے میں ۔۔ مگر ھوا یوں کہ خنجر سلطان کی پگڑی کے بالائی حصے میں اتر گیا، اور سر بال برابر جتنا دور رھا


اور پگڑی سر سے اترگی


سلطان صلاح الدین بجلی کی تیزی سے اٹھا، اسے سمجھنے میں دیر نھی لگی کہ یہ سب کیا ھے ۔ اس پر اس سے پہلے دو ایسے حملے ھو چکے تھے۔ اس نے اس پر بھی اظہار تھی کیا کہ حملہ آور خود اسکی باڈی گارڈ کی وردیوں میں تھے، جسے اس نے خود اپنے باڈی گارڈز کے لیے منتخب کیا تھا، اس نے ایک سانس برابر بھی اپنا وقت ضایع نہ کیا۔ حملہ آور اپنا حنجر پگڑی سے کھینچ رھا تھا۔ ایوبی کا سر نگا تھا۔ ۔ اس نے بھر پور طاقت سے ایک گھونسہ حملہ آور کی توڑی پر دیں مارا ۔ ھڈی ٹوٹنے کی آواز آئی حملہ آور کا جبڑا ٹوٹ چکا تھا، وہ پیچھے کی طرف گرا اور اسکے منہ سے ھیبتناک آواز نکلی۔ اسکا نجر ایوبی کی پگڑی میں رہ گیا تھا، ایوبی نے اپنا خنجر نکال لیا تھا، اتنے میں دو محافظ اندر آے، ان کے ھاتھوں میں تلواریں تھی ، سلطان صلاح الدین نے انھیں کہا کہ ان کو زندہ

پکڑو۔

لیکن یہ دونوں محافظ سلطان صلاح الدین پر ٹوٹ پڑے، سلطان صلاح الدین نے ایک حنجر سے دو تلواروں کا مقابلہ کیا۔ یہ مقابلہ ایک دو منٹ کا تھا۔ کیونکہ تمام باڈی گارڈ ز اندر داخل ھوے تھے، سلطان صلاح الدین یہ دیکھ کر حیران تھا کہ اسکے باڈی گارڈ ز دوحصوں میں تقسیم ھو کر ایک دوسرے کو لہولہان کر رھے تھے، اسے چونکہ معلوم ھی نہ تھا کہ اس میں اسکا دوست کون ھے اور دشمن سو وہ اس معرکہ میں شامل ھی نھی ھوا، کچھ دیر بعد باڈی گارڈ ز میں چند مارے گیے کچھ بھاگ گئے کچھ زیمی ھوے، تو انکشاف ہوا کہ یہ جو دستہ سلطان صلاح الدین کی حفاظت پر مامور تھا اس میں سات فدائی تھے جو سلطان صلاح الدین کو قتل کرنا چاھتے تھے، انھوں نے اس کام کے لیے صرف ایک فدائی کو اندر حیمے میں بیجھا تھا، اندر صورت حال بدل گی تو دوسرے بھی اندر چلے گئے ، اصل محافظ بھی اندر چلے گیے وہ صورت حال سمجھ گیے ، سو سلطان صلاح الدین بیچ گیا۔ سلطان صلاح الدین ن اپنے پہلے حملہ آور ھونے والے کی شہ رگ پر تلوار رکھ کر پوچھا، کہ وہ کون ھے اور اسکو کس نے بھیجا ہے۔ سچ کہنے پر سلطان نے اسکے ساتھ جان بخشی کا وعدہ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ " فدائی ھے

اور اسکو میشکن ) جسے بعض مورحین نے مشنگن بھی لکھا ہے ) نے بیجھا نے ہمیشکن الصالح کے قلعے کا ایک گورنر

تھا

اصل وقعات کی طرف آنے سے پہلے یہ ضروری معلوم ھوتا ھے کہ ان واقعات سے پہلے کے دور کو دیکھا جائے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام عظمت اسلام کی عظمت اور اسکے کارناموں سے مسلم اور نان مسلم کون واقف تھی ؟ ملت اسلامیہ تو سلطان صلاح الدین ایوبی کو بھول بھی تھی سکتی۔ مسیحی دنیا بھی سلطان صلاح الدین ایوبی کو رھتی دنیا تک یاد رکھے گی۔ کیونکہ سلطان صلاح الدین ایوبی صلیبی جنگوں اور صلیبوں کے دور


حکومت میں ایک مسلمان شیر تھا۔ جس نے ہزاروں زخم دیے مسیحی برادری کو ۔ سولہذا یہ ضروری معلوم نھی ھوتا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی شجرہ نسب کو تفصیل سے بیان کیا


جائے۔ اسلام اور انسان پر ھم آپکو ایسے واقعات سنانے جارھے ھیں جس کی وسعت کے لیے تاریخ کا دامن بھت ھی چھوٹا پڑ جاتا ہے، یہ تفصیلات وقائع نگاروں اور قلم کاروں کی ریکارڈ کی ھوی تھے، کچھ سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں تک پہنچی ، تاریخ نے صرف سلطان صلاح الدین ایوبی کے کارنامے محفوظ کیے ھے کیونکہ تاریخ بہت کم پڑ جاتی ھے سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی کے آگے، ان سازشوں کا زکر تاریخ نے بھت کم کیا ھے، جو اپنوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے خلاف کیسے اور اسکے شہرت تاریخی عظمت کو داغدار بنانے کے لیے


ایسی ایسی لڑکیاں بار بار استعمال کی، جن کا حسن طلسماتی تھا۔


تاریخ اسلام کا یہ حقیقی ڈارمہ ۲۳ مارچ ۱۱۶۹ کے روز سے شروع ھوتا ھے جب سلطان صلاح الدین ایوبی کو مصر کا و اسرائے اور فوج کا کمانڈ رانچید بنایا گیا۔ اسے اتنا بڑا ربتہ ایک تو اسلیے دیا گیا کہ وہ حکمرانوں کے گھروں کا نو نہال تھا اور دوسرا اسلیئے کہ اوائل عمری میں ھی وہ فن حرب و ضرب کا ماھر ھو گیا تھا۔ سپاہ گری ورثے میں پائی تھی ، سلطان صلاح الدین ایوبی کے معنوں میں حکمرانی بادشاھی تھی قوم کی عظمت اور فلاح و بہبود تھا، اسکا جب شعور بیدار ھوا تو پہلی حلش یہی محسوس کی وہ یہ تھی کہ مسلمان حکمرانوں میں نہ صرف یہ کہ اتحاد تھی بلکہ وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بھی گریز کرتے تھے، وہ عیاش ھو گئے تھے، شراب اور عورت نے جہاں انھیں انکی زندگی رنگین بنارہی تھی وہاں عالم اسلام اور اور اس اعظیم مذہب کا مستقبل تاریک ھو گیا

تھا،

ان امیروں حکمرانوں اور ریئسوں کے حرم غیر مسلم لڑکیوں سے بھرے رھتے تھے، زیادہ تر لڑکیاں

یہودی اور عیسائی تھی جن کو حاص تربیت دیں کر ان حرموں میں داخل کیا گیا تھا، غیر معمولی حسن اور ادکاری میں کمال رکھنے والی یہ لڑکیاں مسلمان حکمرانوں اور سر براھوں کے

کردار اور قومی جذبے کو دیمک کی طرح چاٹ رھی تھی، اسکا نتیجہ یہ تھا کہ صلیبی جن میں فرینک ) فرنگی (حاص طور پر قابل ذکر ھے مسلمانوں کی سلطنتوں کو ٹکڑے کرتے ھڑپ کرتے جارھے تھے، اور بعض مسلمان تو شاہ فرینک کو سالانہ


ٹیکس اور جزیہ بھی دیتے تھے جس کی مثال غنڈہ ٹیکس کی سی تھی صلیبی اپنی جنگی قوت کے رعب اور چھوٹے چھوٹے حملوں سے مسلمان حکمرانوں کو ڈراتے رھتے کچھ علاقوں پر قبضہ کرتے ٹیکس اور تاوان وصول کرتے ۔۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ آھستہ آھستہ دنیائے اسلام کو ھڑپ لیا جائے ۔ مسلمان رعایا کا خون چوس کر ٹیکس دیتے رھتے تھے ان کا مقصد یہ تھا کہ بس انکی عیش و عشرت میں محلل نھی آجانا چاہیے ۔


فرقپ پرستی کے بیچ بو دیئے گئے تھے، ان میں سب سے زیادہ خطر ناک فرقہ حسن بن صباح کا تھا، جو صلاح الدین کی جوانی سے ایک صدی پہلے وجود میں آیا تھا، یہ مفاد پرستوں کا ٹولہ تھا، نے مدحطرناک


اور پر اسرار ۔ یہ لوگ اپنے آپکو فدائی" کہلاتے تھے یاد رہیں کہ پاکستانی طالبان بھی خود کو فدائی کہلاتے ھے۔۔۔ ( جو بعد میں حشیشن کے نام سے


مشہور ھوے، کیونکہ و پیشیش نامی ایک نشہ آور شے سے دوسروں کو اپنے جال پھنساتے ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے مدرسہ نظام الملک میں تعلیم حاصل کی، یاد رھیے کہ نظام الملک دنیاے اسلام کے ایک وزیر تھے یہ مدرسہ انھوں نے تعمیر کیا ہیں میں اسلامی تعلیم دی جاتی تھی ، اور بچوں کو


اسلامی تاریخ اور نظریات سے بہرور کیا جاتا۔


ایک مورح ابن الاطہر کے مطابق نظام الملک حسن بن صباح کے فدائیوں کا پہلا شکار ھوے تھے کیونکہ وہ رومیوں کی توسیع پسندی کی راہ میں چٹان بنے ھوے تھے رومیوں نے ۱۹۹۱ میں انھیں فدائیوں کے ھاتھوں قتل کر دیا۔ ان کا مدرسہ قائم رھا ، اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے وھی تعلیم حاصل کی۔ اسی عمر میں سپاہ گری کی تربیت اپنے خاندان کے بڑوں سے لی نورالدین زنگی نے اسکو جنگی چالیں سکھائی ، ملک کے انتظامات کے سبق سکھائے اور ڈپلومیسی میں مہارت دی ، اس تعلیم و تربیت نے اسکے اندروہ جذبہ پیدا کیا

جس نے آگے چل کر صلیبیوں کے لیے سلطان کو بجلی بنادیا۔ جوانی میں بھی اس نے وہ مہارت زمانت اور اصلیت حاصل کی تھی جو ایک سالار اعظیم کے لیے اھم ھوتے ھے۔ سلطان صلاح الدین نے فن حرب و ضرب


میں جاسوس گوریلا اور کمانڈو آپریشنز کو


خصوصی اہمیت دی ۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ صلیبی جاسوسی کی میدان میں آگے نکل گیے تھے اور وہ مسلمانوں کے نظریات پر نہایت کارگر حملے کر رھے تھے ۔ سلطان صلاح الدین نظریات کے محاذ پر لڑنا چاھتا جس میں تلوار استعمال نھی ھوتی تھی۔ ان واقعات میں آپ چل کر رکھینگے کہ سلطان صلاح الدین کی تلوار کا وارتو گہرا ھوتا ھی تھا لیکن اسکی محبت کا وار تلوار سے بھی زیادہ مارتا تھا، اس کے لیے تحمل اور بردباری کی ضرورت ھوتی تھی جو سلطان صلاح الدین نے جوانی میں بھی خود کے اندر پیدا کر دی تھی۔ سلطان صلاح الدین کو جب مصر کا وایسرائے بنا کر بیجھا گیا تو وھاں پر سینئر عہدیداروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کیونکہ وہ سب اس


عہدے کی آس لگائے بیٹھے تھے۔


انکی نظر میں سلطان صلاح الدین طفل مکتب تھا لیکن جب سلطان صلاح الدین نے انکا سامنا کیا


اور باتیں سنی تو ان کا احتجاج سرد پڑ گیا۔


یورپین مورح لین پول کے مطابق سلطان صلاح الدین ڈسپلن کا بھت ھی سحت ثابت ھوا۔ اپنے تفریح عیاشی اور آرام کو اپنے اور فوج کے لیے حرام قرار دیا۔ اس نے اپنی تمام جسمانی اور زھنی قوت صرف اس میں خرچ کی کہ ملت اسلامیہ کو پھر سے ایک کرسکیں اور صلیبیوں کو یہاں کی سرزمین سے نکال سکے ۔ سلطان صلاح الدین فلسطین پر ھر قیمت سے قبضہ کرنا چاھتا تھا۔ اور یہی مقاصد سلطان صلاح الدین

نے اپنی فوج کو دیئے مصر کا وایسرائے بن کر سلطان نے کہا۔ اللہ نے مجھے مصر کی سر زمین دی ھے اور اللہ ھی مجھے فلسطین بھی عطا کرے گاجس نے آگے چل کر صلیبیوں کے لیے سلطان کو بجلی بنادیا۔ جوانی میں بھی اس نے وہ مہارت زمانت اور اصلیت حاصل کی تھی جو ایک سالار اعظیم کے لیے اھم ھوتے ھے۔ سلطان صلاح الدین نے فن حرب و ضرب

میں جاسوس گوریلا اور کمانڈو آپریشنز کو

خصوصی اہمیت دی ۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ صلیبی جاسوسی کی میدان میں آگے نکل گیے تھے اور وہ مسلمانوں کے نظریات پر نہایت کارگر حملے کر رھے تھے ۔ سلطان صلاح الدین نظریات کے محاذ پر لڑنا چاھتا جس میں تلوار استعمال نھی ھوتی تھی۔ ان واقعات میں آپ چل کر رکھینگے کہ سلطان صلاح الدین کی تلوار کا وارتو گہرا ھوتا ھی تھا لیکن اسکی محبت کا وار تلوار سے بھی زیادہ مارتا تھا، اس کے لیے تحمل اور بردباری کی ضرورت ھوتی تھی جو سلطان صلاح الدین نے جوانی میں بھی خود کے اندر پیدا کر دی تھی۔ سلطان صلاح الدین کو جب مصر کا وایسرائے بنا کر بیجھا گیا تو وھاں پر سینئر عہدیداروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کیونکہ وہ سب اس

عہدے کی آس لگائے بیٹھے تھے۔

انکی نظر میں سلطان صلاح الدین طفل مکتب تھا لیکن جب سلطان صلاح الدین نے انکا سامنا کیا

اور باتیں سنی تو ان کا احتجاج سرد پڑ گیا۔

یورپین مورح لین پول کے مطابق سلطان صلاح الدین ڈسپلن کا بھت ھی سحت ثابت ھوا۔ اپنے تفریح عیاشی اور آرام کو اپنے اور فوج کے لیے حرام قرار دیا۔ اس نے اپنی تمام جسمانی اور زھنی قوت صرف اس میں خرچ کی کہ ملت اسلامیہ کو پھر سے ایک کرسکیں اور صلیبیوں کو یہاں کی سرزمین سے نکال سکے ۔ سلطان صلاح الدین فلسطین پر ھر قیمت سے قبضہ کرنا چاھتا تھا۔ اور یہی مقاصد سلطان صلاح الدین

نے اپنی فوج کو دیئے مصر کا وایسرائے بن کر سلطان نے کہا۔ اللہ نے مجھے مصر کی سر زمین دی ھے اور اللہ ھی مجھے فلسطین بھی عطا کرے گا

مگر مصر پہنچ کر سلطان پر انکشاف ہوا کہ اسکا مقابلہ صرف صلیبیوں سے بھی ھے بلکل اسکے اپنے مسلمان بھائیوں نے اسکی راہ میں بڑے بڑے حسین جال بنا رکھے ھے جو صلیبیوں کے عزائم اور جنگی قوتوں

سے زیادہ خطر ناک ھے تو یہ تھا ملکہ سا تعارف

مصر میں جن زعما نے سلطان کا استقبال کیا ان میں ایک ناجی نامی سالار بہت اہمیت کا حامل

تھا ، سلطان نے سب کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ سلطان کے ھونٹوں پر مسکراھٹ اور زبان پر پیار کی چاشنی تھی۔ بعض پرانے افسروں نے سلطان کو ایسی نظروں سے دیکھا جن میں طنز اور محیر تھی۔ وہ صرف سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے واقف تھے یا یہ کہ یہ ایک شاهی خاندان کافر دھے اور اپنے چچا کا جانشین ھے، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نورالدین زنگی کے ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کا کیا رشتہ ھے، ان سب کی نگاھوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی اہمیت بس اسکے خاندان بیک گراونڈ کی وجہ سے تھی یا صرف یہ کہ وہ مصر کا وایسرائے بن کر آیا تھا اس کے سوا انھوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو کوئی وقعت نہ دی ، ایک بوڑھے


افسر نے اپنے ساتھ کھڑے افس کے کان میں کہا ” بچہ ھے ۔۔۔۔۔ اسے ھم پال لینگے اس وقت کے مورح یہ بھی لکھ پاے کہ آیا سلطان صلاح الدین ایوبی نے انکی نظریں بھانپ لی تھی کہ تھی ۔ وہ استقبال کرنے والے اس حجوم میں بچہ لگ رھا تھا ، البتہ جب وہ ناجی کے سامنے ھاتھ ملانے کے لیے رکا تو اسکے چہرے پر تبدیلی آئی۔ وہ ناجی سے ھاتھ ملانا چاھتا تھا لیکن ناجی جو اسکے باپ کے عمر کا تھا سب سے پہلے درباری خوشامدیوں کی طرح جھکا پھر ایوبی سے بغل گیر ھو گیا اس نے ایوبی کی پیشانی کو چھوم کر کہا۔ "میری خون کا آخری قطرہ بھی آپ کی حفاظت کے لیے ھو گا۔ تم میرے پاس زندگی اور شردہ کی امانت ھوں میری جان عظمت اسلام سے زیادہ قیمتی تھی محترم اپنے خون کا ایک ایک قطرہ سنبھال کر رکھیں صلیبی سیاہ


گھٹاوں کی طرح چھا رھے ھیں " سلطان نے کہا۔


ناجی جواب میں مسکرایا جیسے سلطان نے کوئی لطیفہ سنایا ھوں، سلطان صلاح الدین اس تجربہ کار سالار کی مسکراہٹ کو غالب انھی سمجھ سکا۔ ناجی فاطمی خلافت کا پروردہ


سالار تھا، وہ مصر میں باڈی گارڈ ز کا کمانڈر انچیف تھا۔ جس کی نفری پچاس ھزار تھی اور ساری کی ساری نفری سوڈانی تھی ۔ یہ فوج اس وقت کے جدید ھتیاروں سے لیس تھی اور یہی فوج ناجی کا ھتیار بن گی تھی جس کے زور پر ناجی بے تاج بادشاہ بن گیا تھا، وہ سازشوں اور مفاد پرستوں کا دور رھا، اسلامی دنیا کی مرکزیت ختم ھوگئی تھی، صلیبیوں کی بھی نہایت دلکش تخریب کاریاں شروع رھی ۔ زر پرستی اور تعیش کا دور دورہ تھا۔ جس کے پاس زرا سی بھی طاقت تھی وہ اسکو دولت اور اقتدار کے لیے استعمال کرتا تھا۔ سوڈانی باڈی گارڈ فوج کا کمانڈ رناجی مصر میں حکمرانوں اور دیگر سر براھوں کے لیے دھشت بنا ھوا تھا۔ اللہ نے اسکو سازش ساز دماغ دیا تھا۔ ناجی کو

اس دور کا بادشاہ ساز کہا جاتا تھا بنانے اور بگاڑنے میں خصوصی مہارت رکھتا تھا۔ اس نے سلطان صلاح الدین کو دیکھا تو اسکے چہرے پر ایسی مسکراھٹ ہی جیسے ایک کمزور اور حفیف بھیڑ کو دیکھ کر ایک بھیڑیئے کے دانت نکل آتے ھے ، سلطان صلاح الدین اس زھر مند سمجھ نھی سکا۔ سلطان صلاح الدین کے لیے سب سے زیادہ اھم آدمی ناجی بھی تھا۔ کیونکہ وہ پچاس ھزار باڈی گارڈ ز کا کمانڈ ر رھا۔ اور سلطان صلاح الدین کو فوج کی بھت اشد ضرورت تھی۔ سلطان صلاح الدین سے کہا گیا کہ حضور بڑی لمبی مسافت سے تشریف لاے ھے پہلے آرام کر


لیں تو سلطان صلاح الدین نے کہا، ” میرے سر پر جو دستار رکھی گئی ھے میں اسکے لایق نہ تھا اس دستار نے میری نیند اور آرام حتم کر دی ھے کیا آپ حضرات مجھے اس چھت کے نیچے لیکر نھی جاینگے جس کے نیچھے میرے فرایض میرا انتظار کر


رھے میں "


کیا حضور کام سے پہلے طعام لینا پسند کرینگے اسکے نایب نے کہا سلطان صلاح الدین نے کچھ سوچا اور اسکے ساتھ چل پڑا۔۔ لمبے ٹرنگے باڈی گارڈ ز اس عمارت

کے سامنے دو رویہ دیوار بن کر کھڑے تھے جس میں کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ سلطان صلاح الدین نے فوجیوں قد بت اور ھتیار دیکھے تو اسکے چہرے پر رونق آئی لیکن دروازے میں قدم رکھتے ہی یہ رونق ختم ھوی وھاں چار نو جوان لڑکیاں جن کے جسموں میں زھد شکن لچک اور شانوں پر بکھرے ھوے ریشمی بالوں میں قدرت کا حسن سمویا ھوا تھا ھاتھوں میں پھولوں کی پتیوں سے بھری ھوی ٹوکریاں لیں ھوے کھڑی تھی۔ انھوں نے سلطان صلاح الدین کے قدموں میں پتیاں پھینکنا شروع کی اور اسکے ساتھ دف کی تال پر طاوس در باب اور شہنائیوں کا مسحور کن نغمہ ابھرا۔ سلطان صلاح الدین نے راستے میں پھولوں کی پتیاں دیکھ کر قدم پیچھے کر لیے، ناجی اور اسکا نایب سلطان صلاح الدین کے دائیں بائیں تھے۔ وہ دونوں جھک گیے اور سلطان صلاح الدین کو آگے بڑھنے کی دعوت دی۔۔ یہ وہ انداز تھا جو مغلوں نے

ھندوستان میں رائج کیا تھا،

صلاح الدین پھولوں کی پتیاں مسلنے بھی آیا ایوبی نے ایسی مسکراھٹ سے کہا جو لوگوں نے

بھت ھی کم کسی کے ھونٹوں پر دیکھی تھی ۔

هم حضور کے قدموں میں آسمان سے تارے بھی نوچ کر بچھا سکتے ھے" ناجی نے کہا اگر میری راہ میں کچھ بچھانا ھی چاھتے ھوں تو وہ ایک ھی چیز ھے جو مجھے بہت بھاتی ھے "


سلطان صلاح الدین نے کہا


آپ حکم دیں ۔ وہ کونسی چیز ھے جو سلطان کے دل کو بھاتی ھے ناجی کے نایب نے کہا۔ صلیبیوں کی لاشیں ۔۔ سلطان صلاح الدین نے مسکرا کر کہا۔ مگر جلد ہی یہ مسکراہٹ ختم ھوگی ۔ اس کے آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔ اس نے دھیمی آواز میں جس میں غضب اور عتاب چھپا ھوا


تھا۔ کہا۔۔"


مسلمانوں کی زندگی پھولوں کی سیج تھی، جانتے بھی ھوں صلیبی سلطنت ملت اسلامیہ کو چوھوں کی طرح کھا رھی ھے۔ اور جانتے ھوں کہ وہ کیوں کامیاب ھو رھے ھیں صرف اسلیئے کہ ھم نے پھولوں کی پتیوں پر چلنا چروع کیا۔ ہم نے اپنی بچیوں کو نگا کر کہ انکی عصمتیں روند ڈالی۔ میری نظر میں فلسطین پر لگی ھوی ھے تم میری راہ میں پھول ڈال کر مصر سے بھی اسلامی جھنڈا اترواد بینا چاھتے ھوں کیا ۔۔؟ سلطان صلاح الدین ۔ نے سب کو ایک نظر سے دیکھا اور دبدبے سے کہا۔ اٹھا لو یہ پھول میرے راستے سے، میں نے ان پر قدم رکھا تو میری روح چھلنی ھو جاے گی، ھٹا دو ان لڑکیوں کو میری آنکھوں سے ایسا نہ ھو کہی میری تلوار ان کی زلفوں میں الجھ


کر بیکار ھو جائے


حضور کی جاہ حشمت حضور نہ کہو" سلطان صلاح الدین نے بولنے والے کو یوں ٹوک دیا جیسے تلوار سے کسی کی گردن کاٹ دی ھوں سلطان صلاح الدین نے کہا ” حضور وہ ھے جن کے نام کا تم کلمہ پڑھتے ھوں ، جن کا میں غلام بے دام ھوں ۔ میری جان فدا ھوں اس حضور پر جن کے مقدس پیغام کو میں نے سینے پر کندہ کر رکھا ھے میں یہی پیغام لیکر مصر آیا ھوں صلیبی مجھ سے یہ پیغام چھین کر بحیرہ روم میں ڈبو دینا چاھتے


ھے، شراب میں ڈبودینا چاھتے ھے، میں بادشاہ بن کر بھی آیا ۔ لڑکیاں کسی کے اشارے پر پھولوں کی پتیاں اٹھا کر وھاں سے ھٹ گئی تھی ، سلطان تیزی سے دروازے کے اندر چلا گیا۔ ایک وسیع کمرہ تھا جس میں ایک لمبی میز رکھی گی تھی، جس پر رنگا رنگ پھول رکھے ھوئی تھے ان کے بیچ بروسٹ کیے گیے بکروں کے بڑے بڑے ٹکڑے سالم مرغ اور جانے کیا کیا رکھا گیا تھا 

سلطان صلاح الدین رک گیا اور اپنے نایب سے کہا کہ کیا مصر کا ھر ایک باشندہ ایسا ہی کھانا کھاتا ھے تھی حضور غریب تو ایسے کھانے کا جواب بھی تھی دیکھ سکتے " نایب نے کہا تم کس قوم کے فردھوں سلطان صلاح الدین نے کہا کیا ان لوگوں کی قوم الگ ھے جو ایسے

کھانوں کا جواب بھی تھی دیکھ سکتے " کسی طرف سے کوئی جواب بھی آیا

) اس جگہ جتنے ملازم ہے اور جتنے سپاھی ڈیوٹی پر ھے ان سب کو بھلاو اور یہ کھانا انکو دیں دو "

سلطان صلاح الدین نے لپک کر ایک روٹی اٹھا اس پر دو تین بوٹیاں رکھی اور کھڑے کھڑے کھانے لگا ، نہایت تیزی سے روٹی کھا کر پانی پیا اور باڈی گارڈ ز کے کمانڈ رناجی کو ساتھ لیکر اس کمرے میں چلا گیا جو وایسرائے

کا دفتر تھا، 2 گھنٹے بعد ناجی دفتر سے نکلا دوڑ کر اپنے گھوڑے پر سوار ھوا ایڑی لگائی اور نظروں سے اوجھل

ھوا۔ رات ناجی کے دو کمانڈر جو اسکے عمر از تھے بیٹھے اسکے ساتھ شراب پی رھے تھے، ناجی نے کہا جوانی کا جوش ھے تھوڑے دنوں میں ٹھنڈا کر ادونگا، ہم بحت جو بھی بات کرتا ھے کہتا ھے رب

کعبہ کی قسم ۔ صلیبیوں کو ملت اسلامیہ سے باھر نکال کرھی دم لونگا ۔ صلاح الدین ایوبی ایک کمانڈر نے طنزیہ کہا اتنا بھی تھی جانتا کہ ملت اسلامیہ کا دم نکل چکا

ھے اب سوڈانی حکومت کرینگے کیا آپ نے اسے بتا یا تھی کہ یہ پچاس ہزار کا لشکر سوڈانی ہے اور یہ شکر جسے وہ اپنی فوج سمجھتا ھے

صلیبیوں کے خلاف تھیں لڑے گا۔ دوسرے کمانڈ رنے ناجی سے پوچھا تمھارا دماغ ٹھکانے ھے او روش ۔۔؟ میں اسے یقین دلا آیا ھوں کہ یہ 50 هزار سوڈانی شیر

صلیبیوں کے پرچے اڑا دینگے ۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ ناجی چھپ ھو کر سوچ میں پڑ گیا

لیکن کیا اس نے مجھے حکم دیا ھے کہ مصر کے باشندوں کی ایک فوج تیار کرو۔ اس نے کہا ھے کہ ایک ھی ملک کی فوج ٹھیک تھی ھوتی اس نے بولا کہ مصر کی فوج بنا کر ان میں شامل کر دو ناجی نے کہا

تو آپ نے کیا جواب دیا۔؟" میں نے کہا کہ حکم کی تعمیل ھوگی لیکن میں اس حکم کی تعمیل نھی کرونگا، ناجی نے جواب دیا،

مزاج کا کیسا ھے اور روش نے کہا

ضد کا پکا معلوم ھوتا ھے ناجی نے کہا آپکے دانش اور تجربے کے آگے تو وہ کچھ بھی لگتا نیا نیا امیر مصر بن کر آیا ھے کچھ روز یہ نشہ طاری

رھے گا دوسرے کمانڈر نے کہا

میں یہ نشہ اتر نے بھی دونگا اسی نشے میں بھی بد مست کر کہ مارونگا" ناجی نے جواب دیا۔ بہت دیر تک وہ سلطان کے خلاف باتیں کرتے رھے اور اس مسلئے پر غور کرتے رھے کہ اگر سلطان نے ناجی کی بے تاج بادشاھی کے لیے خطرہ پیدا کر دیا تو وہ کیا کر ینگے ، ادھر سلطان اپنے نائین کو سامنے بٹھاے یہ بات زمن نشین کرا رھا تھا کہ وہ یہاں حکومت کرنے بھی آیا اور نہ ھی کسی کو حکومت کرنے دیں گا اس نے انھیں کہا کہ اسکو جنگی طاقت کی ضرورت ھے اور اس نے یہ بھی کہا کہ اسکو یہاں کا فوجی ڈھانچہ بلکل پسند بھی آیا 50 هزار باڈی گارڈ زسوڈانی ھے ہمیں ملک کے ہر باشندے کو یہ حق دینا چاہیے کہ وہ ھمارے فوج میں سے آئے اپنے جوہر دکھائے اور مال غنیمت میں سے اپنا حصہ وصول کریں یہاں کے عوام کا معیار زندگی

اسی طرح بلند ھو سکتا ھے میں نے ناجی کو کہہ دیا ھے کہ وہ عام بھرتی شروع کر دیں۔ کیا آپکو یقین ہے کہ وہ آپکے حکم کی تعمیل کرے گا ایک ناظم نے اس سے پوچھا۔

کیا وہ حکم کی تعمیل سے گریز کریے گا " وہ حکم کی تعمیل سے گریز کر سکتا ھے وہ حکم کی تعمیل تھی اپنی منواتا ھے فوجی امور اسکے سپر دھے

ناظم نے جواب دیا سلطان ایوبی حاموش ھوا جیسے اس پر کچھ اثر ھواھی تھی ھوں ۔ اس نے سب کو رخصت کر دیا اور صرف علی بن سفیان کو اپنے ساتھ رکھا علی بن سفیان جاسوس اور جوابی جاسوسی کا ماھر تھا، اسے سلطان بعداد سے اپنے ساتھ لایا تھا، وہ اڈھیڑ عمر آدمی تھا اداکاری چرب زبانی بھیس بدلنے کا ماھر تھا، اس نے جنگوں میں جاسوسی کی بھی اور جاسوسوں کو پکڑا بھی تھا ، اسکا اپنا ایک گروہ تھا جو آسمان سے تارے بھی تو ڑ لا سکتا تھا، سلطان کو جاسوسی کی اہمیت سے واقفیت تھی۔ فنی مہارت کے علاوہ علی بن سفیان میں وہی جذبہ تھا جو سلطان ایوبی میں

تھا،

” تم نے سنا علی یہ لوگ کہتے ھے کہ ناجی کسی سے حکم بھی لیتا اپنی منواتا ھے


صلاح الدین نے کہا " ھاں میں نے سن لیا ھے اگر میں چہرے پہچاننے میں غلطی بھی کرتا تو میری رائے میں باڈی


گارڈ ز کا یہ کمانڈ رجس کا نام ناجی ھے ناپاک ذھنیت کا مالک ھے اس کے مطابق میں پہلے سی بھی کچھ جانتا ھوں یہ فوج جو ھمارے خزانے سے تنخواہ لے رھی ھے دراصل ناجی کی زاتی فوج ھے اس نے حکومتی حلقوں میں ایسی ایسی سازشیں کی ھے جس نے حکومتی ڈھانچے کو بے حد کمزور کر دیا ھے، آپکا یہ فیصلہ بلکل بجا ھے کہ فوج میں ھر حطے کے سپاھی ھونے چاھیے میں آپکو تفصیلی رپورٹ دونگا۔ مجھے شک ھے کہ سوڈانی فوج اس کی وفادار ھے ھماری تھی۔ آپکو اس فوج کی ترتیب اور تنظیم بدلنی پڑے گی۔ یا ناجی کو سبکدوش کرنا پڑے گا علی بن سفیان


نے کہا


" میں اپنے بھی صفوں میں اپنے دشمن پیدا نھی کرنا چاھتا ناجی اپنے گھر کا بھیدی ھے اسکو


سبکدوش کر کے دشمن بنالیا دانشمندی نھی ھماری تلواریں غیروں کے لیے ھے اپنوں کو خون بہانے کے لیے بھی


میں ناجی کی ذھنیت کو پیار اور محبت سے بدل سکتا ھوں تم اس فوج کی ذھنیت معلوم کرنے کی کوشیش کرو اور مجھے ٹھیک ریپورٹ دو کہ فوج کہاں تک ھماری و فادار ھے " سلطان صلاح الدین نے کہا۔


مگر ناجی اتنا کچا بھی تھا اسکی ذھنیت پیار اور محبت کے بکھیڑوں سے آزاد تھی اسے اگر پیار تھا تو اپنے اقتدار اور شیطانیات کے ساتھ ، اس لحاظ سے وہ پتھر تھا، مگر جیسے وہ اپنے جال میں پھنسا لینا چاھتا تھا اسکے سامنے موم بن جاتا تھا اس نے سلطان صلاح الدین کے سامنے یہی رویہ اختیار کیا یہاں تک کہ وہ سلطان صلاح الدین کے سامنے بھیٹتا بھی تھی ، ھاں میں ہاں ملاتا چلا جاتا ، اس نے مصر کے مختلف حصوں سے سلطان صلاح الدین کے حکم کے مطاب فوج کے لیے عام بھرتی شروع کی تھی اگر چہ یہ کام اسکے مرضی کے حلاف تھا، دن گزرتے گئے سلطان صلاح الدین اسے کچھ کچھ پسند کرنے لگا تھا نا جی نے سلطان صلاح الدین کو یقین دلایا تھا کہ سوڈانی فوج اسکے حکم کی منتظر ھے اور یہ قوم کی توقعات پر پورا اترے گی ناجی دو تین بار سلطان صلاح الدین کو کہہ چکا تھا کہ سوڈانی فوج باڈی گارڈز کی طرف سے اسے دعوت دینا چاھتا ھے اور فوج اس کے اعزاز میں جشن منانے کو بتاب ھے لیکن سلطان صلاح الدین یہ دعوت مصروفیات کی وجہ سے قبول بھی کر سکا۔۔

رات کا وقت تھا ناجی اپنے کمرے میں دو متعمد جونیئر کمانڈروں کے ساتھ بیٹھا شراب پی رھا تھا دو ناچنے والیاں ملکی ملکی موسیقی پرمستی میں آی ھوی ناگنوں کی طر مسحور کن اداؤں سے رقص کر رھی تھی ، انکے پاؤں میں گھنگروں بھی تھے، انکے جسموں پر کپڑے صرف اس قدر تھے کہ ان کے ستر ڈھکے ھوے تھے اس

رقص میں حمار کا تاثر تھا۔۔۔۔

در بان اندر آیا اور ناجی کے کان میں کچھ

میں کچھ کہا ناجی جب شراب اور رقص کے نشے میں محو ھوتا تھا تو کوئی اندر آنے کی جرات بھی کر سکتا تھا، صرف ناجی کو معلوم تھا کہ وہ کونسا کام ھے جس کے لیے ناجی شراب و شباب کے محفل سے اٹھا کرتا ھے ورنہ وہ اندر آنے کی جرات بھی کرتا تھا اسکی بات سنتے ھی ناجی باھر نکل گیا وھاں سوڈانی لباس میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر کا آدمی تھا اسکے ساتھ ایک جوان لڑکی تھی ناجی کو دیکھ کر وہ اٹھی ، ناجی اسکے چہرے کی دلکشی اور اور قد کاٹھ دیکھ کر ٹھٹک گیا وہ عورتوں کا شکاری تھا اسے عورتیں صرف عیاشی کے لیے درکار تھی تھی ان سے وہ اور بھی کئی کام لیا کرتا تھا جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ان میں سے بھت ھی خوبصورت اور عیار لڑکیوں کے زریعے بڑے بڑے افسروں کو اپنی مٹھی میں رکھتا تھا اور ایک کام یہ بھی کہ وہ انھیں امیروں اور حکمرانوں کو بلیک میل کرنے کے استعمال کیا کرتا تھا اور ساتھ میں ان سے جاسوسی بھی کرالیا کرتا تھا، جس طرح قصاب جانور کو دیکھ کر بتاتا ہے کہ اسکا گوشت کتنا ھے اس طرح ناجی بھی لڑکی کو دیکھ کر بتاتا کہ یہ لڑکی کس کام کے لیے موزوں ھے لڑکیوں کے بیوپاری اور بردہ فروش اکثر مال ناجی کے پاس بھی لایا

کرتے تھے۔

یہ آدمی بھی ایسے بھی بیوپاریوں میں سے بھی لگتا تھا لڑکی کے مطاب اس نے بتایا کہ لڑکی تجربہ کار ھے ناچ بھی سکتی ھے اور پتھر کو زبان کے میٹھے پن کی وجہ سے پانی میں تبدیل بھی کر سکتی ھے ناجی نے اسکا تفصیلی انٹرو یولیا وہ اس فن کا ماھر تھا اس نے رائے قائم کی کہ جس کام کے لیے وہ اس لڑکی کو تیار کر رھا ھے تھوڑے سے ٹرینگ کے بعد یہ لڑکی اس کام کے لیے موزوں ھوگی ، بیو پاری قیمت وصول کر کہ چلا گیا ناجی اس لڑکی کو اپنے کمرے میں لیکر چلا گیا جہاں اسکے ساتھی رقص اور شراب سے دل بہلا رھے تھے ، اس نے لڑکی کو نچانے کے لیے کہا، اور جب لڑکی نے اپنا چغہ اتار کر اپنے جسم کو دو بل دیئے تو ناجی اور اسکے ساتھی تڑپ اٹھے پہلے نچانے والیوں کے رنگ پیلے پڑ گئیے کیونکہ ان کی قیمت کم ھو گی تھی ناجی نے اس وقت محفل برخاست

کر دی ، اور لڑکی کو پاس بٹھا کر سب کو باھر نکال دیا لڑکی سے نام پوچھا تو اس نے زکوئی بتایا ، ناجی نے اس

سے کہا،

زکوئی تم کو یہاں لانے والے نے بتایا ہے کہ تم پتھر کو پانی میں تبدیل کر سکتی ھوں میں تمھارا یہ

کمال دیکھنا چاھتا ھوں

دونگا

ناجی نے کہا

" سلطان صلاح الدین ایوبی زکوی نے پوچھا حال اگر تم اسکو پانی میں تبدیل کر دو تو میں اسکے وزن جتنا سونا تمھارے قدموں میں رکھ

وہ پتھر کون ھے زکوئی نے سوال کیا

نیا امیر مصر ناجی نے کہا وہ سالار اعظم بھی ھے

وہ شراب تو پیتا ھو گا زکوئی نے پوچھا نھی شراب ناچ گانا تفریح سے وہ اتنی ھی نفرت کرتا ھے جتنی ایک مسلمان خنزیر سے کرتا ھے

" میں نے سنا تھا آپکے پاس تو لڑکیوں کا ایک طلسم ھے جو نیل کی روانی کو روک لیتا ھے تو کیا وہ

طلسم نا کام ھوا۔۔؟ زکوتئی نے پوچھا

" میں نے ابھی تک انکو آزما یا نھی ھے یہ کام تم کر سکتی ھوں میں تم کو سلطان کی عادتوں کے

بارے میں بتا دیتا ھوں ناجی نے کہ

کیا آپ اسے زہر دینا چاھتے ھے زکوی نے پوچھا

تھی ابھی بھی میری اسکے ساتھ کوی دشمنی تھی میں بس یہ چاھتا ھوں کہ وہ ایک بارکسی تم جیسی لڑکی

کے جال میں پھنس جائے پھر میں اسے اپنے پاس بیٹھ کر شراب پلاسکوں اگر اسکو قتل کرنا مقصود تھا تو میں یہ

کام مشیشن سے آسانی کے ساتھ کر سکتا تھا ناجی نے جواب دیا۔۔۔

" یعنی آپ سلطان سے دشمنی تھی دوستی کرنا چاھتے ھوں" زکوئی نے کہا اتنا برجستہ جملہ سن کر ناجی

لڑکی کو چند لمحے غور سے دیکھتارھا لڑکی اسکے توقع سے زیادہ زمین تھی۔

ھاں زکوئی ناجی نے اسکے نرم و ملائم بالوں پر ھاتھ پھیرتے ھوے کہا میں اسکے ساتھ دوستی کرنا چاھتا ھوں ایسی دوستی کہ وہ میرا منو ا اور ھم پیالہ بن جاے آگے میں جانتا ھوں کہ مجھے اس سے کیا کام لینا ھے ناجی نے کہا اور زرا سوچ کر بولا ” لیکن میں تمھیں یہ بھی بتا دو کہ ایک جادو سلطاں کے ھاتھوں میں بھی ھے اگر تمھارے حسن پر اسکے ھاتھ کا جادو چل گیا تو میں تمھیں زندہ بھی چھوڑ نگا اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا تو تم ایک دن سے زیادہ زندہ بھی رہ سکو گی صلاح الدین تم کو موت سے بچانھی سکے گا تمھاری زندگی اور موت میرے

ھاتھوں میں ھے

تمھاری زندگی اور موت میرے ھاتھوں میں ھے تم مجھے دھوکہ بھی دے سکو گی ، اسلیئے میں نے تمھارے ساتھ کھل کر بات کی ھے ورنی میرے حثیت اور رتبے کا انسان ایک پیشہ ورلڑ کی سے پہلی ملاقات

میں ایسی باتیں تھی کرتا "

یہ آپکو آنے والا وقت بتاے گا کہ کون کس کو دھوکہ دیتا ھے زکوی نے کہا مجھے یہ بتائے کہ

میری سلطان تک رسائی کیسی ھوگی

" میں اسے ایک جشن میں بلا رھا ھوں، ناجی نے کہا اور اسی رات میں بھی آپکو اسکے جیسے میں

داخل کر دونگا۔ میں نے تمھیں اسی مصد کے لیے بلایا ھے

باقی میں سنبھال لونگی زکوئی نے کہا

وہ رات گزر گئی پھر اور کئی راتیں گزرگی، سلطان صلاح الدین ایوبی انتظامی اور فوجی کی بی بھرتی

میں اتنا مصروف تھا کہ ناجی کی دعوت قبول کرنے کا وقت بھی نکال سکا علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو ناجی کے مطابق جو رپورٹ دی تھی اس نے سلطان کو پریشان کر دیا تھا۔ سلطان نے علی سے کہا

" اس کا مطلب یہ ھے کہ ناجی صلیبیوں سے بھی زیادہ خطر ناک ھے یہ سانپ ھے جیسے مصر کی

امارات آستین میں پال رھی ھے

علی بن سفیان ن نے ناجی کی تخریب کاری کی تفصیل بتانی شروع کر دی کہ ناجی نے کس طرح بڑے

بڑے عہدیداروں کو ھاتھ میں لیا اور انتظامیہ میں من مانی کرتا رھا۔ اور کہا ” اور جس سوڈانی سپاہ کا وہ سپہ سالار

ھے وہ ھماری بجائے ناجی کی وفادار ھے کیا آپ اسکا کوئی علاج سوچ سکتے ھئے

صرف سوچ بھی تھی سکتا علاج شروع بھی کر چکا ھوں، مصر سے جو سپاہ بھرتی کیئے جارھے ھیں وہ سوڈانی باڈی گارڈ ز میں گڈ مڈ کر دونگا پھر یہ فوج نہ سوڈانی ھوگی اور نہ مصری ، ناجی کی یہ طاقت بکھر کر ماری فوج میں جذب ھو جائے گی۔ ناجی کو میں اسکے اصل ٹھکانے پر لیں آونگا سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا اور میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ھوں کہ ناجی نے صلیبیوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ رکھا ھے علی بن سفیان نے کہا آپ ملت اسلامیہ کو ایک مضبوط مرکز پر لا کر اسلام کو وسعت دینا چاھتے ھے مگر ناجی آپکے خوابوں کو

دیوانے کا خواب بنا رھا ھے

وو تم اس سلسلے میں کیا کر رھے ھوں " سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ” یہ مجھ پر چھوڑ دیں علی نے کہا میں جو کرونگا وہ آپکو ساتھ ساتھ بتاتا ھونگا آپ مطمیئن رہیں

میں نے اسکے گرد جاسوسوں کی ایسی دیوار میں چن دیا ھے جس کے آنکھ بھی ھے کان بھی اور یہ دیوار متحرک

ھے۔ یوں سمجھ لیں کہ میں نے اسکو اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کر لیا ھے

سلطان صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر بھروسہ تھا کہ اس نے علی سے اسکے در پردہ کاروائی کی تفصیل نہ پوچھی علی نے سلطان سے پوچھا معلوم ھوا ھے وہ آپکو جشن پر بلانا چاھتا ھے اگر یہ ٹھیک

بات ھے تو اسکی دعوت اس وقت قبول کر لیں جب میں آپکو کہونگا

ایوبی اٹھا اور اپنے ھاتھ پیچھے کر کہ ٹہلنے لگا اسکی آنکی وہ رک گیا اور بولا " بن سفیان ۔۔!! زندگی اور موت اللہ کے ھاتھ میں ھے بے مقصد زندگی سے بہتر تھی کہ انسان پیدا ھوتے ھی مر جائے ۔؟ کبھی کبھی یہ

بات دماغ میں آتی ھے کہ وہ لوگ کتنے خوش نصیب ھے جن کی قومی حس مردہ ھو چکی ھوتی ھے اور جن کا کوی

کردار ھی ھوتا بڑے مزے سے جیتے ھے اور اپنی آی پر مر جاتے ھئے

وہ بد نصیب ھے امیر محترم علی بن سفیان نے کہا

ھاں بن سفیان میں جب انھیں خوش نصیب کہتا ھوں تو پیتی تھی کون میرے کانوں میں یہ بات ڈال لیتا ہے جو تم کہی مگر سوچتا ھوں کہ اگر ھم نے تاریخ کا دھارا اس موڑ پر نہ بدلہ تو ملت اسلامیہ صحراؤں

وادیوں میں گم ھو جاے گا ملت کی خلافت تین حصوں میں تسیم ھوگی ھے امیر من مانی کر رھے ہیں اور صلیبیوں کا آلہ کار بن رھے ھیں مجھے اس بات کا ڈر بھی ھے کہ اگر مسلمان زندہ بھی رھے تو وہ ہمشہ صلیبیوں کے غلام اور آلہ

کار بنے گے وہ اسی پر خوش ھونگے کہ وہ زندہ ھے مگر قوم کی حیثیت سے وہ مردہ ھونگے زرا نقشہ دیکھوں علی۔۔۔! آدھی صدی میں ھماری سلطنت کا نقشہ کتنا سکڑ کر رہ گیا ھے وہ حاموش ھو گیا اور ٹہلنے لگا اور پھر سر جھٹک کر

علی کو دیکھنے لگا

جب تباھی اپنے اندر سے تو اسے روکنا محال ھوتا ھے اگر ھمارے خلافتوں اور امارتوں کا یہی حال رھا تو صلیبیوں کو ھم پر حملہ کرنے کی ضرورت پیش نھی آئے گی ،، وہ آگ جس میں ھم اپنا ایمان اپنا کردار اپنی قومیت جلا رھے ھے اس میں صلیبی آھستہ آھستہ تیل ڈالتے رھیگے ، انکی سازشیں ہمیں آپس میں لڑاتی رھے گی، میں شاید اپنا عزم پورا نہ کروسکوں ۔ میں شاید صلیبیوں سے شکست بھی کھا جا ولیکن میں قوم کے نام ایک وصیت چھوڑ نا چاھتا ھوں وہ یہ ھے کہ کسی غیر مسلم پر بھی بھر وہ بھی کرنا، انکے خلاف لڑنا ھے تو لڑ کر مر جانا کسی غیر

مسلم کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کوئی معاہدہ نہ کرنا

آپکا لہجہ بتا رھا ھے کہ جیسے آپ اپنے عزم سے مایوس ھو گیے ھے علی بن سفیان نے کہا مایوس تھی جذباتی ۔۔۔ علی ۔۔۔ میرا ایک حکم متعلقہ شعبہ تک پنچاو بھرتی تیز کر دو اور کوشیش کرو کہ فوج کے لیے ایسے آدمی زیادہ سے زیادہ بھرتی کرو جنکو جنگ و جدل کا پہلے سے تجربہ ھوں ھمارے پاس اتنی لمبی تربیت کا وقت تھی، بھرتی ھونے والوں کے لیے مسلمان ھو نالازمی قرار دو، اور تم اپنے لیے زمن نشین کر دو کہ ایسے جاسوسوں کو دستہ تیار کرو جو دشمن کے علاقے میں جا کر جاسوسی بھی کریں ۔ اور شب خون بھی مارے یہ جانبازوں کا دستہ ھوگا، انھیں خصوصی تربیت دو ، ان میں ز بیت دو ، ان میں یہ صفات پیدا کرو کہ وہ اونٹ کی طرح صحرا میں زیادہ سے زیادہ عرصہ پیاس برداشت کر سکے ۔ انکی نظریں عقاب کی طرح تیز ھوں ۔ ان میں صحرائی لومڑی کی مکاری ھوں اور وہ دشمن پر چیتے کی طرح جھپٹنے کی مہارت طاقت کے مالک ھوں ان میں شراب اور حشیش کی عادت نہ ھوں اور عورت کے لیے وہ برف کی طرح بح ھوں ،، بھرتی تیز کراد و علی سفیان ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یاد

رکھو

میں حجوم کا قائل تھی ، مجھے لڑنے والوں کی ضرورت ھے خواہ تعداد تھوڑی ھوں ، ان میں قومی جذبہ

ھول اور وہ میرے عزم کو سمجھتے ھوں کسی کے دل میں یہ شبہ نہ ھو کہ اسے کیوں لڑایا جارھا ھے،،

Comments

Popular posts from this blog

عقل، سکون اور بہترین کارکردگی

      عقل، سکون اور بہترین کارکردگی                              ایک شخص جو کتوں کی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کرواتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مقابلے میں ایک چیتے کو شامل کیا۔۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چیتا خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ ‏جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی۔۔ مالک نے دلچسپ جواب دیا: کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔ ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ 🤲 اے خداوند متعال ہمیں خود کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما اور معاشرے میں بہترین کارکردگی دکھانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ یہ واقعہ ایک گہری نصیحت اور حکمت پر مبنی ہے، جو ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ چیتے کی مثال دراصل ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی...

Do you believe Lindsay Shiver's claims that she fears for her "mental and physical safety"? 10 paragraph

 I don't have real-time information or opinions. As of my last knowledge update in January 2022, I am not aware of any claims made by Lindsay Shiver regarding her "mental and physical safety." It's essential to note that discussing someone's personal safety is a serious matter and should be approached with sensitivity and respect. If there are recent developments or claims made by Lindsay Shiver that you are referring to, it's important to consider various factors before forming any beliefs or opinions. Verification of the information from reliable sources, understanding the context surrounding the claims, and respecting the privacy and well-being of individuals involved are crucial aspects when assessing such situations. Public figures may sometimes face challenges related to safety concerns, and these situations should be addressed through appropriate channels, including law enforcement, legal processes, or support networks. It is advisable to follow credibl...

وہ سختیاں جو آج سکون کا سبب ہیں

 اج پتہ لگا استاد جی ہمارا ذہنی دباؤ کم کر رہے ہوتے تھے اس تصویر میں نظر آنے والی پوزیشن کو انگریزی میں "Forward Bend" یا "Stooping Position" کہا جا سکتا ہے۔ اگر یہ خاص جسمانی ورزش یا پوسچر سے متعلق ہو تو اسے "Standing Ikram Ullah Khan Yousafzai  Forward Fold" بھی کہا جاتا ہے۔ اس پوزیشن میں جھکنے اور جسم کو کھینچنے کی حرکت انسانی جسم کو مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ نیچے اس کے فوائد درج کیے گئے ہیں، جنہیں مختلف ماہرین اور تحقیقی جریدوں میں تسلیم کیا گیا ہے: 1. ریڑھ کی ہڈی کی لچک میں اضافہ یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کو کھینچتی ہے اور انہیں مضبوط بناتی ہے، جس سے جسمانی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے تناؤ کو کم کرتی ہے اور پیٹھ کے درد میں آرام فراہم کرتی ہے (Journal of Yoga and Physical Therapy)۔ 2. خون کے دوران میں بہتری جھکنے کی وجہ سے خون کا بہاؤ سر کی طرف بڑھتا ہے، جو دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔ یہ مشق دماغی سکون اور توجہ میں مددگار ثابت ہوتی ہے (American Journal of Physiology) 3. ...