Skip to main content

بے نکاح رہنے کے نقصانات*

*ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ* *بے نکاح رہنے کے نقصانات* ارشاد فرمایا کہ جب نکاح بمنزلہ لباس کے ہے تو بےنکاح رہنا عریانی ہے۔ پس اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ عورت مرد کے لیے بےنکاح رہنا عیب کی بات ہے جب کہ استطاعت ہو۔ جب حالتِ نکاح کی ضرورت ہے تو ترکِ نکاح بہت سے فتنوں کا سبب ہوجائے گا چنانچہ وساوس و خطرات کا ہجوم ہوگا جو عبادات میں حلاوت و طمانیت (لذت اور اطمینان) کو بالکل ہی برباد کر دے گا۔ اور بعض لوگوں سے ان وساوس و خطرات سے متأثر ہو کر ان کے مقتضاء پر عمل بھی سرزد ہوجاتا ہے چنانچہ بعض لوگ تو عورتوں سے مبتلا ہوجاتے ہیں اور بعض لوگ اپنے ظاہری تقدس کی حفاظت کے لیے عورتوں سے بچتے ہیں کیونکہ اس میں آدمی بدنام ہو جاتا ہے (لیکن) نوعمر لڑکوں سے مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور یہ اس سے بڑھ کر فتنہ (اور گناہ) ہے کیونکہ عورت کسی حالت میں تو حلت کا محل ہے بخلاف اس کے کہ(لڑکوں سے یہ فعل) قطعی حرام ہے۔ بعض لوگ اصل فعل سے بچے رہتے ہیں مگر اس کے مقدمات مثل بوسہ و لمس (چوما چاٹی) وغیرہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس میں دوسرے بدگمان نہ ہوں، حتی کہ خود وہ (مفعول) اس کو بزرگانہ شفقت پر محمول کرے گا۔ *نعوذ بالله من الفتن ما ظهر وما بطن* بعض لوگ باوجود ضرورت کے اور باوجود وسعت کے نکاح نہیں کرتے، بعض تو شروع ہی سے نہیں کرتے اور بعض لوگ بیوی کے مرجانے یا طلاق دے دینے کے باوجود پھر (نکاح) نہیں کرتے، جب ضرورت اور وسعت دونوں ہوں تو نکاح واجب یا فرض ہوگا۔ (اسلامی شادی، صفحہ ۶۱)

Comments