Skip to main content

. سورة البقره آيت 27 و 28 اللہ کا عہد اور انسان کی ذمہ داری


 *آسان ترجمۂ قرآن* 

 *مفسر: مفتی محمد تقی عثمانی* 
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 27

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ وَيَقۡطَعُوۡنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيُفۡسِدُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ۞
ترجمہ:
وہ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پختہ کرنے کے بعد بھی توڑ دیتے ہیں (24) اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں کاٹ ڈالتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں (25) ایسے ہی لوگ بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں۔
تفسیر:
(24) عہد سے مراد اکثر مفسرین نے وہ عہد الست لیا ہے جس کا ذکر سورة اعراف (7: 172) میں ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کرنے سے بہت پہلے آنے والی تمام روحوں کو جمع کرکے ان سے پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں، سب نے اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے کا اقرار کرکے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے، پھر اس آیت میں عہد کو پختہ کرنے سے مراد بظاہر یہ ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے رسول آتے رہے جو اس عہد کو یاد دلاکر اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے پر دلائل قائم کرتے رہے۔
 اس عہد کی ایک اور تشریح بھی ممکن ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد وہ عملی اور خاموش عہد (tacit covenant ) ہے جو ہر انسان پیدا ہوتے ہی اپنے خالق ومالک سے کرتا ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے ہر شخص جو کسی ملک میں پیدا ہوتا ہے وہ اس ملک کا شہری ہونے کے ناطے یہ خاموش عہد کرتا ہے کہ وہ اس ملک کے قوانین کا پابند ہوگا خواہ زبان سے اس نے کچھ نہ کہا ہو لیکن اس کا کسی ملک میں پیدا ہونا ہی اس عہد کے قائم مقام ہے، اسی طرح کائنات میں جو شخص بھی پیدا ہوتا ہے وہ خود بخود اس عہد کا پابند ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارے گا۔ اس عہد کے لئے زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ غالباً اسی وجہ سے اگلی آٰیت میں باری تعالیٰ نے فوراً یہ ارشاد فرمایا کہ ” تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کا طرز عمل آخر کیسے اختیار کرلیتے ہو، حالانکہ تم بےجان تھے، اسی نے تمہیں زندگی بخشی “ یعنی اگر ذرا غور کرو تو تنہا یہ بات کہ کسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، تمہاری طرف سے یہ عہد و پیمان ہے کہ تمہارے لئے ان کی نعمتوں کا اعتراف اور اس کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنا لازمی ہوگا۔ ورنہ یہ کونسی عقل اور کونسا انصاف ہے کہ پیدا تو اللہ تعالیٰ کرے، اور فرمانبرداری اس کے بجائے کسی اور کی کی جائے، پھر اس خاموش عہد کو مزید پختہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے ذریعے متواتر تمہیں اس عہد کی یاد دہانی کراتا رہا ہے اور ان پیغمبروں نے وہ مضبوط دلائل تمہارے سامنے پیش کئے ہیں جن سے یہ عہد مزید پختہ ہوگیا ہے کہ انسان کو ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنی ہے۔
 25 اس سے مراد رشتہ داروں کے وہ حقوق پامال کرنا ہے جنہیں صلہ رحمی کہا جاتا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کی تین صفات بیان کی ہیں، ایک یہ کہ وہ اللہ سے کیا ہوا عہد توڑتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ رشتہ داروں کے حقوق پامال کرتے ہیں اور تیسرے یہ کہ زمین میں فساد مچاتے ہیں، ان میں سے پہلی چیز اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ عقیدہ رکھتے ہیں جو رکھنا چاہیے اور نہ اس کی وہ عبادت کرتے ہیں جو ان پر فرض ہے، دوسری اور تیسری چیز کا تعلق حقوق العباد سے ہے، اللہ تعالیٰ نے مختلف رشتوں کے جو حقوق مقرر فرمائے ہیں، ان کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی سے ہی ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے، اگر ان رشتوں کو کاٹ کر باپ، بیٹے، بھائی بھائی، شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے حقوق پامال کرنا شروع کردیں تو وہ خاندانی نظام تباہ ہوجاتا ہے جس پر ایک صحت مند تمدن کی بنیاد قائم ہوتی ہے، لہذا اس کا لازمی نتیجہ زمین میں فساد کی صورت میں نکلتا ہے اسی لئے قرآن کریم نے رشتوں کو کاٹنے اور زمین میں فساد مچانے کو سورة محمد (26: 22) میں بھی ایک ساتھ ملاکر ذکر فرمایا ہے . آیت فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم۔

- سورۃ نمبر 2 البقرة
 *آیت نمبر* *28* 

كَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَڪُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡيَاکُمۡ‌ۚ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞
ترجمہ:
تم اللہ کے ساتھ کفر کا طرز عمل آخر کیسے اختیار کرلیتے ہو حالانکہ تم بےجان تھے اسی نے تمہیں زندگی بخشی پھر وہی تمہیں موت دے گا پھر وہی تم کو (دوبارہ) زندہ کرے گا اور پھر تم اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے

سورۃ نمبر 2 البقرة
 *آیت نمبر* *29* 

هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ لَـكُمۡ مَّا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰٮهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ‌ؕ وَهُوَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے تمہارے لئے پیدا کیا (26) پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا، چنانچہ ان کو سات آسمانوں کی شکل میں ٹھیک ٹھیک بنادیا، اور وہ ہر چیز کا پورا علم رکھنے والا ہے۔ ؏
تفسیر:
26: انسان کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ وہ کائنات کی جتنی چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے سب اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی ہیں، ان میں سے ہر چیز اس کی توحید کی گواہی دے رہی ہے اس کے باوجود اس کے ساتھ کفر کارویہ اختیار کرنا کتنی بڑی ناشکری ہے، اسی آیت سے فقہاء نے یہ اصول بھی مستنبط کیا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اصل میں حلال ہے اور جب تک کسی چیز کی حرمت پر کوئی دلیل نہ ہو اس وقت تک اس کو حلال ہی سمجھا جائے  گا
 
. #سورة_البقره
.#القرآن
• #ترجمه_قرآن
• #تفسير_قرآن
#مفتی_محمد_تقی_عثمانی
27_آیت#
28_آیت#
29_آیت#
. #عهد_الله
. #كفر
#ایمان
#زندگی
. #موت
.#اللہ_کی_قدرت
. #اللہ_کی_نعمتیں
. #اسلامی_تعلیمات
• #دینی_معلومات
• #قرآن_پاک
#اسلام
. سورة البقره
. قرآن
. ترجمه قرآن
. تفسیر قرآن
. مفتی محمد تقی عثمانی
. آیت 27
. آیت 28
. آیت 29
. عهد الله
. كفر
. ایمان
. زندگی
. موت
. اللہ کی قدرت
. اللہ کی نعمتیں
. اسلامی تعلیمات
. دینی معلومات
. Surah Al-Baqarah, Quran, Translation of the Quran, Tafsir of the Quran, Life
- Surah_Al-Baqarah
Death, Faith, Islamic Teachings
#
#
The Quran
‎‫#ترجمه_قرآن‬‎
#Tafseer_Quran
#
life
#
death
#
faith
#Islamic_Teachings

Comments

Popular posts from this blog

عقل، سکون اور بہترین کارکردگی

      عقل، سکون اور بہترین کارکردگی                              ایک شخص جو کتوں کی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کرواتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مقابلے میں ایک چیتے کو شامل کیا۔۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چیتا خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ ‏جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی۔۔ مالک نے دلچسپ جواب دیا: کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔ ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ 🤲 اے خداوند متعال ہمیں خود کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما اور معاشرے میں بہترین کارکردگی دکھانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ یہ واقعہ ایک گہری نصیحت اور حکمت پر مبنی ہے، جو ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ چیتے کی مثال دراصل ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی...

Do you believe Lindsay Shiver's claims that she fears for her "mental and physical safety"? 10 paragraph

 I don't have real-time information or opinions. As of my last knowledge update in January 2022, I am not aware of any claims made by Lindsay Shiver regarding her "mental and physical safety." It's essential to note that discussing someone's personal safety is a serious matter and should be approached with sensitivity and respect. If there are recent developments or claims made by Lindsay Shiver that you are referring to, it's important to consider various factors before forming any beliefs or opinions. Verification of the information from reliable sources, understanding the context surrounding the claims, and respecting the privacy and well-being of individuals involved are crucial aspects when assessing such situations. Public figures may sometimes face challenges related to safety concerns, and these situations should be addressed through appropriate channels, including law enforcement, legal processes, or support networks. It is advisable to follow credibl...

وہ سختیاں جو آج سکون کا سبب ہیں

 اج پتہ لگا استاد جی ہمارا ذہنی دباؤ کم کر رہے ہوتے تھے اس تصویر میں نظر آنے والی پوزیشن کو انگریزی میں "Forward Bend" یا "Stooping Position" کہا جا سکتا ہے۔ اگر یہ خاص جسمانی ورزش یا پوسچر سے متعلق ہو تو اسے "Standing Ikram Ullah Khan Yousafzai  Forward Fold" بھی کہا جاتا ہے۔ اس پوزیشن میں جھکنے اور جسم کو کھینچنے کی حرکت انسانی جسم کو مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ نیچے اس کے فوائد درج کیے گئے ہیں، جنہیں مختلف ماہرین اور تحقیقی جریدوں میں تسلیم کیا گیا ہے: 1. ریڑھ کی ہڈی کی لچک میں اضافہ یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کو کھینچتی ہے اور انہیں مضبوط بناتی ہے، جس سے جسمانی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے تناؤ کو کم کرتی ہے اور پیٹھ کے درد میں آرام فراہم کرتی ہے (Journal of Yoga and Physical Therapy)۔ 2. خون کے دوران میں بہتری جھکنے کی وجہ سے خون کا بہاؤ سر کی طرف بڑھتا ہے، جو دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔ یہ مشق دماغی سکون اور توجہ میں مددگار ثابت ہوتی ہے (American Journal of Physiology) 3. ...