Skip to main content

آج ہمارا ٹاپک چھوٹا کاروبار جو گلی محلوں میں کیا جا تا ہے

 آج ہمارا ٹاپک چھوٹا کاروبار جو گلی محلوں میں کیا


https://www.highrevenuegate.com/vr8h06ki?key=0bb9ed454fc77f0abd692b8559b1738eجاتا ہے اس کو بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ ایسا کاروبار شروع کر رہے ہیں جو اس محلے یا گلی کی ڈیمانڈ ہے تو آپ کو کاروبار چند دنوں کے اندر اندر بہت ترقی کرے گا ۔ اس کی مثال میں اسطرح سے دے سکتا ہوں کہ آپ نے اپنے محلے میں دیکھا ہو گا ۔ وہ کاروباری حضرات جو صرف کریانہ کا سامان رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں کم کماتے ہیں بنسبت ان لوگوں کے جو ایک جنرل سٹور کے ساتھ ساتھ یعنی کریانہ کے سامان کے ساتھ ساتھ ایزی لوڈ بھی چلا رہے ہیں۔ تو چلین اج کا ٹاپک شروع کرتے ہیں کہ کیسے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کر کے اس سے پیسے بھی کمائیں اور ساتھ ساتھ اپنے کاروبار کو بھی بہتر کرتے چلے جائیں۔ اس کے لیے کوئی بہت بڑی یا بہت زیادہ محنت کی ضرور نہیں بلکہ ایک اچھی اور پرفٹک سوچ ہی آپ کے کاروبار کو بہتر بنا سکتی ہے۔ اس کے لیے کرنا کیا ہے؟

سب سے پہلے آپ ایک ماہ سے تین ماہ تک اس کاروبار کی ہیبت و نوعیت وغیرہ کو جانچیں ، اس کی پیچیدویوں کو سمجھیں نقصان کو دیکھیں ۔ اور پھر کاروبار شروع کر یں۔ آپ کوفائدہ کے ساتھ ساتھ نقصان بھی ہو گا ۔ جو آپ نے بر داشت کرنا ہے کیونکہ کاروبار میں وہ شخص کامیاب ہی نہیں ہو سکتا جو نقصان کو بر داشت کرنے کی صلاحیت ہی نہ رکھتا ہوں۔ ہمیشہ وہ دکانیں سب سے زیادہ چلتی ہیں جن کے پاس تھوڑا تھوڑا لیکن سب مال موجود ہو ۔اگر دو شخص 5 ،5 لاکھ روپے انویسٹ کر کے ایک ہی محلہ یا گلی میں کاروبار شروع کر تے ہیں تو سب سے زیادہ اس دکاندار کی دکان چلتی ہے جس نے ہر قسم کا سامان رکھا ہوا ہے۔ اگر ان مین ایک شخص صرف اپنے محلے یا گلی میں آٹا ، چینی ، پتی ہی رکھ کر بیٹھ جاتا ہے اور دوسراشخص آٹا، چینی ، پتی ، سبزی اور ایزی لوڈ وغیرہ کو رکھ کر بیٹھ جاتاہے تو آپ خود ہی بتائیں کے سب سے زیادہ گاہک کس دکاندار کے بنیں گے۔

اس کے علاوہ انٹر نیٹ کی زبان میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے کی ورڈز اس کا مطلب ہوتا ہے کے لوگ کون سے الفاظ استعمال کرتے ہیں کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کے لیے ۔ اس میں خاص بات یہ ہے کہ یہ لفظ انٹر نیٹ اور عام زندگی دونوں میں لاگو ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے کاروبار میں گاہک اور انٹر نیٹ میں وورز آتے ہیں۔آج ہمارا ٹاپک چونکہ صرف اور صرف گلی محلے کی دکانداری پر ہے اس لیے کسی دوسری لکچر میں انٹر نیٹ پر بات کریں گے تو چلیں ٹاپک کی طرف دوبارہ چلتے ہیں۔

لوگوں کو کان سے پکڑ کر اپنی دکان پر لائیں۔

لوگوں کو کان سے پکڑ کر اپنی دکان پر لائیں کا یہ مطلب نہیں کے ان کے گھر میں گھس کر ان کو کان سے پکڑ کر اپنی دکان پر لائیں۔ اس کی مثال میں یوں دیتا ہوں کہ آپ ہر روز ٹی وی دیکھتیں ہیں۔ سب سے زیادہ اشتہارات وغیرہ سم وغیرہ کی کمپینیوں کے چل رہے ہوتے ہیں ۔ ان کو کیا ضرورت ہے ہر شخص کو سم اور لوڈ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور وہ دکان سے کروا بھی لیتے ہیں ۔ لیکن یہ لوگ ٹی وی پر اشتہار کیوں دیتے ہیں جی جناب یہ لوگوں کو کان سے پکڑ کر ہی لا رہے ہیں ۔ اپنی دکان پر اس کے علاوہ صاحب کے اشتہارات وغیرہ ، سرف وغیرہ کے ، اور اس کے علاوہ دیگر اشتہارات وغیرہ اس لیے چل رہے ہوتے ہیں کہ لوگوں کے زہن میں ایک ہی بات بیٹھے اور وہ صرف اور صرف ہماری کمپنی یا پروڈکٹ وغیرہ کا ۔

ایڈور ٹائز منٹ کیسے کریں۔

1)۔ بہت ہی اچھا سوال ہے ہر کاروبار کی اپنی نوعیت ہوتی ہے۔ اگر آپ محلے ، گلی میں کاروبار کر رہے ہیں تو سب سے اچھا اور آسان طریقہ اس محلے کی آبادی اور اس کے ساتھ والی آبادی کی تعداد کے بابر چھوٹے اشتہارات تقسیم کرین اور خود کرین جو انسان خود کام کرتا ہے اس کو بہت فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ہر گھر میں اشہتارات ایسے پھینکے جیسے بجلی والے بل پھینکتے ہیں۔ اس کا فائدہ آپ کو یہ ہوگا اگر ایک محلے کی آبادی 1000 ہے تو کم از کم 750 لوگ اس کو پڑھین گے ۔ اور باقی 250 لوگ اس کا جہاز بنا کر اڑائیں گے لیکن آپ نے پریشان نہیں ہونا ۔

2)۔ اس کے بعد ہر روز کم از کم اپنے محلہ گلی کے 50 لوگوں کو سلام کرین ان کا احوال پوچھیں اور ان کو اپنی دکان پر بیٹھنے کا کہیں اور ساتھ میں چائے کا بھی پتہ کریں۔ عموما ً ہر روز اگر آپ کی شاپ پر یا باہر کھڑے کھڑے 50 میں سے 10 لوگ بھی ایک نگاہ آپ کی دکان پر ڈالتے ہیں تو یقین مانیں ان میں سے 7 لوگ آپ کے گاہک بن جائیں گے ۔

3)۔ اس کے علاوہ تیسرا فارمولا اگر کوئی چھوٹا بچہ یا بچی آپ کی دکان پر آتا ہے تو اس کو شہزادی ، بیٹا ، اور دیگر اچھے اچھے القبات سے بلائیں۔ اور خاص طور پر اس وقت جب ان کے والدین یا بڑا ان کے ساتھ موجود ہو اور اس وقت اگر اپ مسکرا کر اس بچے کے گالوں پر ہلکی سی تھپکی اور ساتھ میں یہ کہہ دیں بہت ہی پیارا اور معصوم ہے تو کنفرم وہ گاہک آپ کا ہوگا ۔ اس کے علاوہ بڑوں کو خاص طور پر عورتوں کو جتنی بھی عمر کی ہونگی چاہئے آپ سے 100 سال بڑی ہی کیوں نہ ہو باجی ، آپی اور اپنے علاقہ کی نسبت کے مطابق ادب سے نام لیکر ان کو مخاطب کریں۔ اور اگر کوئی بوڑھا شخص ہو تو جلد اٹھ کر کرسی ، بینچ وغیرہ پر ان کو بیٹھا دیں اور ساتھ میں ان سے پوچھے بغیر ان کو پانی کا گلاس وغیرہ بھی ہاتھ میں تھما دیں۔ اور ساتھ میں اگر گرمیاں ہیں تو ان کو پنکھے کے نیچے بیٹنے کا کہہ دیں اور ساتھ میں با ادب طریقے سے یہ بھی ہیں کہ خیریت اتنی گرمی میں ۔

4)۔ تقریبا ایک ماہ تک ہر روز ایک ڈائری بنا ئیں خفیہ ڈائری اس میں ہرروز فروخت ہونے والی اشیاء لکھیں اور ساتھ میں یہ بھی لکھیں کہ محلہ کے کن لوگوں نے سب سے زیادہ مجھ سے کون سی چیز خریدی اس سے آپ کو ایک اندازہ یہ بھی ہوگا کہ کون سی چیز سب سے زیادہ بکتی ہے اس میں ایزی لوڈ شامل نہیں ہے۔ بلکہ دوسری چیزیں ہیں۔ اس کے بعد ان تمام لوگوں سے اچھے روابط قائم کریں جو آپ کے سب سے زیادہ خریدار ہیں اور کوشش کریں کہ اگر وہ آپ کی دکان پر موجود ہین تو ان کو سردیوں میں چائے ، قہوہ وغیرہ پلائین اور گرمیوں میں کولڈ ڈرنگ وغیرہ ۔ اور اگر ان کے چھوٹے بچےان کے ساتھ ہیں تو ان کے ساتھ میں بسکٹ یا کوئی اچھی سی ٹافی تھما دیں۔

5)۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص آپ کی دکان پر آکر کوئی چیز مانگتا ہے جو آپ کے پاس موجود نہیں تو اس کو یہ مت کہیں کے ( نہیں ہے ) نی ہے ) ہمارے پاس نہیں ہے) یا اس طرح کے دیگر الفاظ استعمال مت کریں ۔ اگر آپ نے یہ الفاط استعمال کیے تو آپ نے اس گاہک کو اپنے سے جدا کر دیا بلکہ کہیں کہ جی میں دیتا ہوں اور اٹھ کر کسی بھی جگہ پر تھوڑا سا چیک کرنے کے بعد اس کے منہ کی طرف دیکھیں اور مسکرائیں اور پھر کہیں غالباً ختم ہو گئی ہے میں میں بازار سے لانا پھول گیا ہوں ۔ چٹ میں تو لکھی تھی پتہ نہیں کیوں نہ لا سکا ۔ اتنا کہنے کے بعد اس سے اس کا احوال اور بچوں کی خریدیت بھی پتہ کر لیں۔ اور اگروہ یہ کہے کے کہاں سے ملے گی تو اس کو کسی ایک دکان کا مت بتائیں بلکہ یہ کہیں کہ کس طرف جا رہے ہیں ۔ جس طرف وہ جا رہے ہیں وہاں کی تین سے چار دکانوں کے نام اکٹھے بول کر کہیں وہاں سے مل جائے گی ۔ اس سے آپ کو فائدہ اور نقصان کیا ہوگا ۔وہ یہ کہ اگر آپ اس کو یہ کہتے ہیں کہ فلاں دکان سے مل جائے گی تو اس کے ذہن میں وہ دکان ہمیشہ کے لیے فیلڈ ہو جائے گی ۔ اور وہ جب بھی کوئی چیز کا متلاشی ہو گا تو اس کے ذہن میں آپ کے بارے میں یہ آئے گا کے شاید نہ ہو چلوں سیدھا اسی دکان پر چلتے ہیں۔ اس کے وہ ہمیشہ کے لیے وہاں چلتا بنے گا ۔ اس کے علاوہ جب آپ ان کومختلف دکانوں کا بتائین گے تو پھر وہ آپ ہی کی شاپ پر آئیں گے کیونکہ ان کے ذہن میں ایک دکان کی نسبت دو تین، چار دکانیں یاد رکھنا بڑا مشکل ہوگا ۔ تو پھر وہ پلٹ کر آپ کے پاس ہیں آئیں گے ۔

6)۔ جب آپ کسی بھی چیز کو تول رہے ہیں تو کوشش کریں کہ اگر ایک شخص آپ کو ایک کلو چینی کا کہتا ہے کہ تول دیں تو آپ آدھا کلوکے قریب چینی شاپر (لفافے) وغیرہ میں ڈال کر ترازو پر رکھ دیں اور دوبارہ تھوڑی تھوڑی چینی لفافے میں ڈالے اس سے شاہک کو بڑی خوشی ہوتی ہے۔ کہ اس کے حاصل کردہ لفافے میں کافی سارا مال آ رہا ہے۔ اسی طرح اگر ایک مٹھائی کے دکان والا شخص مٹھائی کے ڈبے مین ترازو پر ڈبہ رکھنے کے بعد اوپر سے اور مٹھائی ڈالتا ہے تو گاہک کو بڑی خوشی ہوتی ہے۔ اس سے وہ بڑا مطمئن ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ ایک کلو چینی طولنے کے لیے پہلے ہی ایک لفافہ میں دو کلو چینی ڈال دینگے اور ترازو پر رکھنے کے بعد اس میں سے نکالیں گے تو گاہک بڑا دل برداشتہ ہوتا ہے۔

7)۔ سب سے ہم نقطہ اپنی دکان پر تھوڑی تھوڑی چیزین رکھیں لیکن زیادہ چیزیں رکھیں اس سے آپ کو بہت فائدہ ہو گا۔ اور لوگوں کے زہن میں بیٹھ جاتا ہے کہ وہاں دکان پر ہر چیز مل جاتی ہےَ

8)۔ کم پرافٹ سے کاروبار کو بہتر کریں اگر ایک شخص مہینے کا 10000 روپے کا سامان آپ سے خرید رہا ہے چاہیے وہ نقد لے رہا ہے یا قسطوں پر لیتا ہے۔ سامان سارا پیک کرنے کے بعد اگر دیکھیں کے اس کے دس ہزار روپے سے آپ کو 500 روپے کا فائدہ ہوا ہے تو آپ 470 روپے کا فائدہ رکھیں اور باقی 30 روپے کا اپنی طرف سے اس گاہک کو فائدہ دیں ۔ کوئی بھی ایک بسکٹ کا پیکٹ جو 10 سے 15 روپے کا ہو وہ گاہک کے سامنے اس کو بتا کر دیں گے یہ ہماری طرف سے آپ کو تحفہ ہے۔ اورکوشش کرین صرف ایک ہی چیز مت دیں اگر 30 روپے کا آپ نے ان کو فائدہ دینا ہے تو 10 سے 15 روپے کا بسکٹ باقی 6 سے 8 روپے کی ماچس اور 2 سے 5 روپے کی بچوں کے لیے ٹافیاں دے دیں۔

9)۔ جب اپ سارا سامان پیک کر چکیں ہون تو اس وقت اپنے کاروبار کا اشتہار جس کا سائز ایک پیج کے برابر ہو وہ بھی اس میں ڈال دیں ۔ اور کوشش کریں ہر گاہک کا موبائل نمبر آپ کے پاس محفوظ ہو اور جب بھی کوئی بچت سکیم آئے جیسے کے پتی کے ڈبوں میں مختلف چیزیں ہوتی ہیں۔ ان کے بارے میں اپنے گاہک کو لازم بتائیں۔ جب اس طرح کی کوئی سکیم آتی ہے تو عموم لوگ گھر میں وہ چیز ہونے کے باوجود خرید لیتے ہیں۔ اپنے گاہک وغیرہ کو لالچ دیں۔

10)۔ اپنے گاہک پر مکمل یقین مت کریں لیکن اپنی پیاری سی گفتگو سے اس کے مائنڈ میں بیٹھا دیں کہ آپ اس پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔

آپ ایک اچھے تاجر بن سکتے ہیں شرطیہ کے اگر آپ کو علم ہو جیسے زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی ایک اچھے کاروبار کے لیے ایڈ ورٹائزمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے لوگوں کو بتائیں کے آپ کیا کیا کر سکتے ہیں۔ اپنی زبان سے مٹی کو سونا بنا کر بیچیں۔

With Thanks from the wall of Respected Mr. Kanwar M. Abid.

#businessideas #urdupost #بزنس #business #urduadab #ZohaibSiddiqui

Comments

Popular posts from this blog

How strong is Wolverine compared to other Marvel characters?

 Wolverine's strength compared to other Marvel characters is a bit complex, as it depends on what area of "strength" you're asking about. Here's a breakdown: **Physical Strength:** * **Officially:** Classified as a **level 4** on the Marvel Power Grid, meaning he can lift about **800 lbs to 25 tons**. This puts him in the **lower half of the "superhuman" strength category**. * **Compared to:** Many other mutants and superheroes have significantly higher physical strength, like Hulk, Thor, Colossus, etc. However, his adamantium skeleton does grant him an edge in certain situations, like withstanding immense pressure or piercing durable materials. **Regeneration:** * **Arguably his greatest strength:** Wolverine's **mutant healing factor** is practically unmatched. He can regenerate from almost any injury, including impalement, organ damage, and even decapitation. This makes him extremely difficult to defeat in a battle of attrition. * **Compared to:**...

معمولی اختلافات کا سنگین انجام

 جوائنٹ فیملی سے تعلق رکھنے والے سبھی سنجیدہ افراد ضرور پڑھیں۔ style="text-align: right;">ایک عورت صبح اٹھی، فریج میں پڑے انڈے اٹھائے، ناشتہ بنایا، خود کھایا، شوہر کو دیا، شوہر اپنے کام پر چلا گیا، عورت اپنے کام پر چلی گئی۔ چند گھنٹوں بعد شوہر نے بیوی کو کال کرکے کہا کہ گھر پہ تھوڑا مسئلہ ہوگیا ہے، تم آج سیدھی امی کی طرف چلی جانا۔ میں معاملہ نمٹا کر تمہیں لے آؤں گا۔۔۔۔ بیوی نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو شوہر ٹال گیا، لیکن بیوی کے اصرار کرنے پر اس نے بتا دیا کہ صبح جو تم نے فریج سے انڈے لے کر بنائے تھے وہ امی نے باجی کے لیے منگوا کر رکھے تھے۔ امی کو لگتا ہے تم نے وہ جان بوجھ کر اٹھا کر استعمال کیے ہیں۔ امی تھوڑی ناراض ہیں۔ تم اپنی امی کی طرف چلی جانا، میں گھر جا کر معاملہ سلجھا کر شام تک تمہیں لے آؤں گا۔ لیکن عورت نے شوہر کی بات نہ مانی۔ جاب سے سیدھی گھر گئی۔ جاتے ہوئے ایک درجن انڈے لیتی ہوئی گئی۔ گھر پہنچ کر انڈے لے جا کر ساس کے سامنے رکھے اور کہا ان انڈوں کی وجہ سے آپ نے جھگڑا کھڑا کیا تھا ناں؟ دو اٹھائے تھے بارہ لے کر آئی ہوں۔ شوہر بھی یہ سب سن رہا تھا۔ ساس نے بیٹے کو آو...

تعلق بچانے کا حوصلہ: ایک انمول نعمت

*یہ جو آپ لہجوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں، کیا یہ رزق نہیں........ کیا یہ نعمت نہیں*..... *.ہر بار جھک کر آپ تعلق بچا لیتی ہیں،* *یہ کسی نعمت سے کم تھوڑی ہے*.......*یہ ایسا رزق ہے جس سے دنیا میں آپ عزت آخرت میں اجر کمائیں گی ۔ہم رزق کی تلاش میں صبح شام مارے مارے پھرتے ہیں.............* *ضروریاتِ سے زائد کی خواہش جنم لیتی ہے اور جب وہ خواہش پوری نہ ہو تو ذہنی اذیت میں مبتلا رہنا ہمارا معمول بن جاتا ہے۔* *اس لمحے اپنی ذات کی خوبیوں پہ نظر تو ڈالیں۔* *آپ کا صبر....... آپ کی قربانی...... آپ کا اخلاق..... آپ کا کردار......... آپ کی قناعت.....دنیا سے بے رغبتی......... قرآنِ کریم سے دوستی........*یہ ایسا رزق ہے*.... جس کا فائدہ تو دوگنا ہے........* *آپ جیسا سمجھدار تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا.... کہ آپ دنیا بھی کما رہیے ہیں اور مستقبل کے لیے بچت بھی کر رہیے ہیں......*. *جن نعمتوں سے محروم رہ کر آپ صبر کر رہیے ہیں*... *کیا اس صبر کی توفیق اس انسان کے پاس موجود ہے جو ان نعمتوں سے مالا مال ہے............* *جو آنسو محرومی کے وقت نکلتا ہے. ... وہ دنیا کی مدہوشی میں آج کے دور میں شک...