Skip to main content

عافیہ صدیقی ،ارمی اور وزیر اعظم سے اپیل highrevenuegate.com/ca/ad/cf/caadcfb1020690554208b1c658527569.js

عافیہ، عافیہ، آرمی چیف اور وزیراعظم سے اپیل ن خاکی رنگ کی وردی میں ملبوس اور سر پر سفید اسکارف پہنے۔۔۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بدھ کے دن امریکی جیل میں جب اپنی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے ملاقات کے لئے آئی ہوگی۔۔۔ تو اس وقت ان دونوں بہنوں کی کیفیت اور جذبات کیا ہوں گے؟ یہ سوچ کر ہی انسان کو جھرجھری سی آجاتی ہے، جیل کے کمرے میں بیس سال بعد ملاقات کرنے والی دونوں بہنوں کے درمیان موٹا شیشہ حائل تھا، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک دوسرے کو گلے لگانا چاہتی ہوں گی، بڑی بہن اپنی چھوٹی بہن سے ہاتھ ملانا چاہتی ہوگی، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اپنی پیاری بہنا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بچوں کی تصویریں بھی انہیں دکھانا چاہتی تھیں، لیکن درمیان میں عورتوں کے حقوق کا عالمی ''ماما'' امریکہ حائل رہا، امریکہ عورتوں کے حقوق کو پامال کرنے میں پتھر کے زمانے کو بھی پیچھے چھوڑ گیا، کیا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بچوں کی تصویروں سے ''میزائل'' نکل رہے تھے۔۔۔۔ کہ جو ایک مظلوم ماں کو اس کے بچوں کی تصویریں بھی نہیں دیکھنے دی گئیں؟ امریکہ اپنی رعونت اور طاقت کے بل بوتے پر بے بس اور لاچار ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر مظالم ڈھا کر کیا سمجھتا ہے کہ وہ عذاب خداوندی سے بچ جائے گا؟ ہم نے اُسامہ بن لادن کو کسی کافرہ عورت یا بچے پر ظلم ڈھاتے ہوئے نہ دیکھا اور نہ سنا، جبکہ ایک نہتی بے بس اور لاچار عورت ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر امریکہ کے بے پناہ مظالم تو آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے، میں اسے ''سپرپاور'' کیسے مان لوں کہ جو بیس سال پہلے بچھڑنے والے بچوں کی تصویریں دیکھنے پہ بھی ''ماں'' پر پابندی عائد کر دیتا ہے، افغان طالبان کے ہاتھوں عبرتناک شکست سے دوچار ہو کر کابل سے راتوں رات بھاگنے والے امریکہ نے۔۔۔ بدھ کے دن دو بہنوں کی ملاقات کے دوران، درمیان میں ایک موٹے شیشے کی دیوار کھڑی کرکے ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا کہ۔۔۔۔ یہ نہ صرف عورتوں کے حقوق کا دشمن بلکہ پرلے درجے کا بزدل بھی ہے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل سمتھ سٹیفورڈ کی جانب سے جاری تحریری بیان کے مطابق۔۔۔ جیل میں ایک حملے کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اوپر والے دانت ٹوٹے ہوئے تھے، جبکہ شدید تشدد کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ کے سر پر لگنے والی ضرب کی وجہ سے ان کے ایک کان کی قوت سماعت بھی متاثر ہوئی تھی۔ امریکیوں کی منافقت اور دو نمبری کے کیا کہنے؟ انہیں افغانستان اور پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی بڑی فکر لاحق رہتی ہے، اس لئے افغانستان میں انہیں عورتوں کے حقوق کی بحالی چاہیے۔۔۔ مگر خود امریکی حکام ایک بے گناہ قیدی عورت کے دانت توڑکر اپنی جوانمردی کی علامت سمجھتے ہیں، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دانت توڑنے والے بدنسل امریکی نامردوں کو کوئی بتائے کہ۔۔۔۔۔ تمہاری مردانگی پر ہزار ہار تف، ظالمو، امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود دنیا کا سب سے بڑا مقروض بھی ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ وہ تاریخی موقع بھی ضرور آئے گا کہ۔۔۔۔ جب اسے ڈیفالٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکہ کے پائوں تلے سے آہستہ آہستہ زمین سرکنا شروع ہوچکی ہے، گوانتاناموبے، ابوغریب جیل، بلگرام ائیربیس، عراق، شام، افغانستان میں بہائے جانے والے خون کا ایک ایک قطرہ بولے گا، ان شاء اللہ۔ 2018ء میں ہیوسٹن امریکہ میں تعینات پاکستان کی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کی تھی، ڈاکٹر عافیہ سے ہونے والی ملاقات کے بعد انہوں نے اپنی ایک تحریر میں بتایا تھا کہ جیل میں کس طرح عافیہ صدیقی کو جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا ہے، حتیٰ کہ جنسی ہراسگی بھی روز کا معمول ہے، عائشہ فاروقی نے یہ بھی لکھا تھا کہ۔۔۔ فروری دو ہزار اٹھارہ میں ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی گئی تھی ، اور کمرے میں موجود ان کے زیراستعمال تمام اشیاء بھی ان سے چھین لی گئی تھیں، عائشہ فاروقی کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے انہیں بتایا تھا کہ ایف ایم سی کارزہ پل کی جس جیل میں وہ قید ہیں، وہاں عصمت دری اور ہم جنس پرستی عام ہے اور یہ کہ ان کی حفاظت صرف اللہ کر رہا ہے۔۔۔۔یہ ہے امریکہ کا وہ بھیانک چہرہ کہ جس کے تعفن اور سڑاند سے ہر طرف بو پھیلی ہوئی ہے، کیا ایسا بھیانک چہرے والے امریکہ کو عورتوں کے حقوق کا محافظ یا عورتوں کے حقوق کا پاسدار قرار دیا جاسکتا ہے؟
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے انسانی حقوق پامال کرنے والا امریکہ انسانیت پہ بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں، بیس سال بعد بڑی بہن کو اس کی چھوٹی مگر.... قیدی بہن عافیہ صدیقی نے بتایا کہ ''اپنے گھر والوں کو ہر لمحہ یاد کرتی ہوں، کسی چہرے کو نہیں بھلایا، میری ماں، میرے والد، میری بہن فوزیہ اور اپنے بچوں کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں'' ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے بتایا کہ دونوں بہنوں کے درمیان یہ ملاقات انتہائی افسردہ کرنے والی تھی، لیکن اس جذباتی ملاقات کے لئے حاضر ہونا ایک اعزاز تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی نہ تو کسی این جی او اور نہ کسی سیاسی اور مذہبی جماعت یا شخصیت کے بس میں ہے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو۔۔۔ تہہ خاک پہنچ جانے والے ایک رسواکن ڈکٹیٹر کے تاریک دور میں امریکہ کے حوالے کیا گیا، اس جہنمی کام کو سرانجام دینے میں کون کون سے مکروہ کردار شامل رہے اور ڈاکٹر عافیہ کے عوض ملنے والے ڈالر کس کس کے پیٹ میں گئے؟ ہم جانیں یا نہ جانیں۔۔۔ مگر پاک پروردگار تو خوب جانتا ہے، اب اگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کروانا ہے تو پاکستان کی مقتدر طاقتوں کو میدان میں آنا پڑے گا، شہباز حکومت اور آج کی اسٹیبلشمنٹ اگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے مل کر کام کریں تو... کوئی وجہ نہیں کہ اس پاکباز بیٹی کو امریکہ کی قید سے رہائی نہ دلوائی جاسکے، میں اس موقع پر پاکستانی حکام پر تنقید کے نشتر چلانے کی بجائے، آرمی چیف جنرل حافظ سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے گزارش کروں گا کہ پاکستانی قوم کی نگاہیں آپ پر لگی ہوئی ہیں، عافیہ صدیقی پاکستانی قوم کی ریڈ لائن تھی... کہ غداران وطن کے تعاون سے امریکیوں نے جس ریڈ لائن کو پامال کیا۔ ''خدا را'' قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے اپنا ایسا بھرپور کردار ادا کیجئے کہ جس روشن کردار کی... مدتوں مثالیں پیش کی جاتی رہیسیکرٹریں
۔

Comments

Popular posts from this blog

عقل، سکون اور بہترین کارکردگی

      عقل، سکون اور بہترین کارکردگی                              ایک شخص جو کتوں کی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کرواتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مقابلے میں ایک چیتے کو شامل کیا۔۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چیتا خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ ‏جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی۔۔ مالک نے دلچسپ جواب دیا: کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔ ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ 🤲 اے خداوند متعال ہمیں خود کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما اور معاشرے میں بہترین کارکردگی دکھانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ یہ واقعہ ایک گہری نصیحت اور حکمت پر مبنی ہے، جو ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ چیتے کی مثال دراصل ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی...

Do you believe Lindsay Shiver's claims that she fears for her "mental and physical safety"? 10 paragraph

 I don't have real-time information or opinions. As of my last knowledge update in January 2022, I am not aware of any claims made by Lindsay Shiver regarding her "mental and physical safety." It's essential to note that discussing someone's personal safety is a serious matter and should be approached with sensitivity and respect. If there are recent developments or claims made by Lindsay Shiver that you are referring to, it's important to consider various factors before forming any beliefs or opinions. Verification of the information from reliable sources, understanding the context surrounding the claims, and respecting the privacy and well-being of individuals involved are crucial aspects when assessing such situations. Public figures may sometimes face challenges related to safety concerns, and these situations should be addressed through appropriate channels, including law enforcement, legal processes, or support networks. It is advisable to follow credibl...

وہ سختیاں جو آج سکون کا سبب ہیں

 اج پتہ لگا استاد جی ہمارا ذہنی دباؤ کم کر رہے ہوتے تھے اس تصویر میں نظر آنے والی پوزیشن کو انگریزی میں "Forward Bend" یا "Stooping Position" کہا جا سکتا ہے۔ اگر یہ خاص جسمانی ورزش یا پوسچر سے متعلق ہو تو اسے "Standing Ikram Ullah Khan Yousafzai  Forward Fold" بھی کہا جاتا ہے۔ اس پوزیشن میں جھکنے اور جسم کو کھینچنے کی حرکت انسانی جسم کو مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ نیچے اس کے فوائد درج کیے گئے ہیں، جنہیں مختلف ماہرین اور تحقیقی جریدوں میں تسلیم کیا گیا ہے: 1. ریڑھ کی ہڈی کی لچک میں اضافہ یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کو کھینچتی ہے اور انہیں مضبوط بناتی ہے، جس سے جسمانی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے تناؤ کو کم کرتی ہے اور پیٹھ کے درد میں آرام فراہم کرتی ہے (Journal of Yoga and Physical Therapy)۔ 2. خون کے دوران میں بہتری جھکنے کی وجہ سے خون کا بہاؤ سر کی طرف بڑھتا ہے، جو دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔ یہ مشق دماغی سکون اور توجہ میں مددگار ثابت ہوتی ہے (American Journal of Physiology) 3. ...