Skip to main content

پشاور سے کوہاٹ جاتے ہوئے

 



۔کوہاٹ سے پشاور جاتے ھوئے کوہاٹ ٹنل کے قریب سڑک کے کنارے نصب ایک مجسمہ ہے جس کی اپنی ھی ایک تاریخ ھے ۔  نئی نسل کو اس بارے میں کم ہی معلوم ھے 


یہ مجسمہ ایک تاریخی شخصیت عجب خان آفریدی کا ہے جنہوں نے انگریز سامراج کی مخالفت میں 1923 میں درہ آدم خیل میں لڑائی لڑی تھی اور یہ لڑائی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی. جب غازی عجب خان نے انگریز کی کوہاٹ فوجی چهاؤنی اور دیگر مراکز کو حملوں کا نشانہ بنانا شروع کیا۔


انہوں نے فوجی چهاؤنی سے بھاری اسلحہ نکالنے کے ساتھ ساتھ بہت سے انگریز فوجیوں کو ہلاک بھی کیا، جس پر انگریز انٹیلی جنس اداروں اور عجب خان آفریدی میں ٹھن گئی۔


ایک دن انگریز فوج نے ان کے گھر پر ہلہ بول دیا اور عجب خان آفریدی کی والدہ سے بدتمیزی کی جس کے بعد ماں نے عجب خان آفریدی کو انگریز سے بدلہ لینے کا حکم دیا کہ جب تک تم انگریز سے میری بےعزتی کا انتقام نہ لے لو مجھے اپنی شکل مت دکھانا اور نہ ہی تب تک گھر آنا۔ یہاں تک کہ اسے اپنا دودھ تک نہ بخشنے کی بھی دھمکی دی۔


اس کے بعد عجب خان آفریدی نے دل میں مصمم ارادہ کیا کہ وہ انگریز قوم سے ایسا بدلہ لیں گے کہ وہ تاعمر یاد رکھیں گے۔ یہ وہ وقت تھا جب زیادہ تر پختون قوم انگریزوں کی حمایتی تھی، اور چند گنے چنے لوگ ہی عجب خان آفریدی کے ساتھ تھے۔ انگریزوں کے ساتھی پختون عجب خان آفریدی کو غدار سمجھتے تھے اور اسے ملک دشمن سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ انگریزوں سے پیسے وصول کرتے تھے۔


اپنی والدہ سے بدسلوکی کا بدلہ لینے کے لیے عجب خان آفریدی نے ایک دن کوہاٹ کے انگریز آفیسر کے گھر پر حملہ کرتے ہوئے وہاں سے مس ایلس کو اغوا کر لیا۔ لڑکی کی ماں نے چیخ وپکار کی تو انہوں نے اسے قتل کر دیا اور پہرے پر مامور انگریزوں کو بھی قتل کرتے ہوئے مس ایلس کو اغوا کر لیا۔


اس پر تمام انگریز حیرت میں ڈوب گئے کہ اتنے کڑے پہرے کے اندر داخل ہو کر اتنا بڑا واقعہ کیسے پیش آ گیا۔


عجب خان آفریدی مس ایلس کے ساتھ 10 دن کوہاٹ کے کوتل پہاڑ کے ایک غار میں رکا رہا۔ پھر افغانستان جا کر وہاں کی حکومت سے پناہ مانگی جنہوں نے پناہ کے ساتھ سینکڑوں ایکڑ زمین بهی مزار شریف میں عجب خان آفریدی کے نام کر دی۔ اس وقت کی انگریز حکومت نے عجب خان آفریدی کے سر کی قیمت ایک لاکھ روپیہ (جو موجودہ کے کروڑوں بنتے ہیں) لگائی۔





نو مہینے بعد افغان حکومت نے انگریز حکومت اور عجب خان آفریدی کے مابین فیصلہ کرایا اور پهر طورخم باڈر پر مس ایلس کو انگریز حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ جب مس ایلس کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا توہ حیران رہ گئے کہ مہنیوں عجب خان آفریدی اور اُن کے ساتھیوں کے چنگل میں وہ کیسے باعزت اور محفوظ رہی۔


انگریز حکومت اس حسن سلوک سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ اگر عجب خان آفریدی ایلس کی ماں کو قتل نہ کرتا تو وہ عام معافی دیتے اور انعام سے بھی نوازتے۔ اس تاریخ سے ہمارے نوجوان بے خبر ہیں کہ ہماری قوم کے بہادروں کی داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں۔


1985 میں مس ایلس سرکاری پروٹوکول کے ساتھ درہ آدم خیل آئیں اور عجب خان آفریدی کے گهر اور وہ پناہ گاہ جس میں مس ایلس رہ چکی تهی، وہاں گئیں اور جا کر وہ بہت روئیں۔


اس کے بعد عجب خان آفریدی کے آخری زندہ دوست ملک شیر خان باش خیل، جو شاید اب اس دنیا میں نہیں ہیں، سے ملاقات کی اور سننے میں آیا ہے کہ مس ایلس عجب خان آفریدی کے حسن سلوک سے اتنی متاثر ہوئی تھیں کہ اُنہوں نےکہا تھا کہ عجب خان آفریدی کو دیکھنے کے بعد انہیں کوئی پسند ہی نہیں آیا۔

اس موضوع پر پشتو میں ایک بھی فلم بن چکی ہے اور پھر ایک دور میں یہ داستان ہمارے نصاب کا حصہ رہی ہے مگر پھر نجانے کس طرح اور کیسے یہ کہانی ہمارے نصابی کتاب سے غائب ہو گئی۔ حالانکہ ہماری نئی نسل کو مشاہیر کے کارناموں سے روشناس کرنا ہمارا فرض بنتا ہے۔


کوہاٹ پشاور روڈ پر کوہاٹ سرنگ سے آگے جس نے بھی عجب خان آفریدی کا مجسمہ نصب کرنے کا سوچا ہے، وہ داد کا مستحق ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

عقل، سکون اور بہترین کارکردگی

      عقل، سکون اور بہترین کارکردگی                              ایک شخص جو کتوں کی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کرواتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مقابلے میں ایک چیتے کو شامل کیا۔۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چیتا خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ ‏جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی۔۔ مالک نے دلچسپ جواب دیا: کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔ ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ 🤲 اے خداوند متعال ہمیں خود کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما اور معاشرے میں بہترین کارکردگی دکھانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ یہ واقعہ ایک گہری نصیحت اور حکمت پر مبنی ہے، جو ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ چیتے کی مثال دراصل ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی...

How strong is Wolverine compared to other Marvel characters?

 Wolverine's strength compared to other Marvel characters is a bit complex, as it depends on what area of "strength" you're asking about. Here's a breakdown: **Physical Strength:** * **Officially:** Classified as a **level 4** on the Marvel Power Grid, meaning he can lift about **800 lbs to 25 tons**. This puts him in the **lower half of the "superhuman" strength category**. * **Compared to:** Many other mutants and superheroes have significantly higher physical strength, like Hulk, Thor, Colossus, etc. However, his adamantium skeleton does grant him an edge in certain situations, like withstanding immense pressure or piercing durable materials. **Regeneration:** * **Arguably his greatest strength:** Wolverine's **mutant healing factor** is practically unmatched. He can regenerate from almost any injury, including impalement, organ damage, and even decapitation. This makes him extremely difficult to defeat in a battle of attrition. * **Compared to:**...

وہ سختیاں جو آج سکون کا سبب ہیں

 اج پتہ لگا استاد جی ہمارا ذہنی دباؤ کم کر رہے ہوتے تھے اس تصویر میں نظر آنے والی پوزیشن کو انگریزی میں "Forward Bend" یا "Stooping Position" کہا جا سکتا ہے۔ اگر یہ خاص جسمانی ورزش یا پوسچر سے متعلق ہو تو اسے "Standing Ikram Ullah Khan Yousafzai  Forward Fold" بھی کہا جاتا ہے۔ اس پوزیشن میں جھکنے اور جسم کو کھینچنے کی حرکت انسانی جسم کو مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ نیچے اس کے فوائد درج کیے گئے ہیں، جنہیں مختلف ماہرین اور تحقیقی جریدوں میں تسلیم کیا گیا ہے: 1. ریڑھ کی ہڈی کی لچک میں اضافہ یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کو کھینچتی ہے اور انہیں مضبوط بناتی ہے، جس سے جسمانی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے تناؤ کو کم کرتی ہے اور پیٹھ کے درد میں آرام فراہم کرتی ہے (Journal of Yoga and Physical Therapy)۔ 2. خون کے دوران میں بہتری جھکنے کی وجہ سے خون کا بہاؤ سر کی طرف بڑھتا ہے، جو دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔ یہ مشق دماغی سکون اور توجہ میں مددگار ثابت ہوتی ہے (American Journal of Physiology) 3. ...