*سوتیلی ماں*
*✍️۔۔ ایک عورت آپریشن کے کمرے میں داخل ہوئی تاکہ اس کا بچہ پیدا ہو۔*
*اور اسی دوران اُس کی روح قبض کر لی گئی۔*
*اور اُس نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دینے کے بعد وفات پائی۔*
*شوہر اپنی بیوی کے بچھڑنے سے بہت غمگین ہوا۔*
*اور اُس نے بیٹے کو اپنی سالی کے حوالے کر دیا کیونکہ وہ خود بہت مصروف رہتا تھا۔*
*سات ماہ بعد اُس آدمی نے دوسری شادی کر لی۔*
*اور اس نئی بیوی سے اُس کے ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوئے۔*
*تین سال گزرنے کے بعد اُس آدمی نے اپنے بیٹے کو خالہ کے گھر سے واپس لے آیا تاکہ وہ اس کے ساتھ رہے۔*
*بیوی نے اپنے بچوں کا خیال رکھا لیکن اس بچے کا خیال نہ رکھا۔*
*اُس نے اس کے ساتھ سختی برتی اور اُس کو معاف نہ کیا۔*
*اکثر اوقات اُس کو اکیلا کھانا دیا جاتا۔*
*ایک دن، اُس عورت نے اپنے خاندان کو رات کے کھانے پر مدعو کیا۔*
*بچہ کھانے کی میز کے پاس آیا اور وہاں موجود کھانے اور مٹھائیوں کو دیکھ کر اُس نے کچھ لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔*
*عورت نے اُس کو دیکھ لیا اور سختی سے ڈانٹا۔*
*پھر اُس نے اُسے چاولوں کی پلیٹ دی اور بالکونی میں بٹھا دیا.*
*اور کہا یہاں بیٹھو جب تک مہمان چلے نہ جائیں اور اپنی جگہ سے مت نکلنا۔*
*بچہ جو ابھی چار سال کا بھی نہیں ہوا تھا، سردی کے موسم میں بالکونی میں اکیلا بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔*
*اُسے سوتیلی ماں سے ڈر لگا کہ کہیں وہ باہر نکلے اور اُس کو مارے۔*
*تو وہ وہیں سو گیا۔*
*عورت کے رشتہ دار چلے گئے اور عورت نے اپنے بچوں کو لے کر سونے چلی گئی۔*
*شوہر کام سے دیر گھر آیا بیوی نے کہا میں تمہارے لیے کھانا لاتی ہوں۔*
*شوہر نے کہا میں کھانا باہر کھا چکا ہوں۔*
*اُس نے اپنے یتیم بیٹے کے بارے میں پوچھا تو بیوی نے کہا وہ اپنے بستر پر سو رہا ہے اور بھول گئی کہ اُس کو بالکونی میں بٹھایا تھا۔*
*شوہر سو گیا۔*
*سوتے میں اُس نے اپنی مرحوم بیوی کو خواب میں دیکھا جو کہہ رہی تھی اپنے بیٹے کا خیال رکھو۔*
*وہ آدمی گھبرا کر اُٹھا اور بچے کے بارے میں پوچھا۔*
*بیوی نے کہا وہ اپنے بستر پر ہے۔*
*وہ آدمی سو گیا۔*
*پھر سے اُس نے اپنی مرحوم بیوی کو خواب میں دیکھا، جو کہہ رہی تھی اپنے بیٹے کا خیال رکھو۔*
*آدمی نے دوبارہ پوچھا، بیوی نے کہا آپ بات کا بتنگڑ بنا رہے ہیں، بچہ اپنے بستر پر سو رہا ہے، فکر نہ کریں۔*
*آدمی تیسری بار سویا۔*
*پھر اُس نے اپنی مرحوم بیوی کو دیکھا، جو کہہ رہی تھی:*
*اب تمہارا بیٹا میرے پاس آ گیا ہے۔*
*آدمی گھبرا کر اُٹھا اور بستر میں بچے کو دیکھا، وہاں نہیں ملا۔*
*پھر اُس نے گھر کے ہر کونے میں اُس کو تلاش کیا، نہیں ملا۔*
*اس نے بالکونی کا دروازہ کھولا تو دیکھا بچّہ سردی سے کانپ رہا تھا۔*
*اس نے اپنے جسم کو لپیٹ رکھا تھا اور سر کو گھٹنوں میں چھپا رکھا تھا۔*
*بچہ زرد چہرے کے ساتھ بے حرکت تھا، باپ نے اُس کو ہلایا تو معلوم ہوا کہ وہ انتقال کر چکا ہے۔*
*اُس کے ہاتھ میں چاولوں کی پلیٹ تھی، کچھ کھا چکا تھا اور کچھ چھوڑ دیا تھا۔*
*کیونکہ وہ اُس سے ملنے والا تھا جو اُس پر رحم کرے گی۔*
*وہ اپنی ماں کے پاس چلا گیا تھا۔*🥹
*اے بنتِ خدا کے واسطے اپنے بچوں جیسا دوسروں کے بچوں کا بھی خیال رکھو۔*
*بچے ہیں جنت کے پھول ہے یہ پیارا قولِ رسولﷺ*
*جب بچے مل جاتے تھے حضرتﷺ خوش ہو جاتے تھے*
یہ کہانی انسانی ہمدردی، اخلاقی ذمہ داری اور بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک پر روشنی ڈالتی ہے۔ کہانی میں ایک بچے کے دکھ بھری زندگی کو بیان کیا گیا ہے، جو اپنی حقیقی ماں سے محروم ہونے کے بعد سوتیلی ماں کی سختی اور بے رخی کا شکار ہوتا ہے۔
اہم نکات کی وضاحت:
1. یتیم بچے کی حالت:
بچہ اپنی ماں کے بغیر زندگی گزار رہا تھا، اور اس کے والد کی مصروفیت نے اسے ماں جیسی شفقت سے محروم کر دیا۔ یہ صورتحال ہمیں ان یتیم بچوں کی حالت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے جو کسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
2. سوتیلی ماں کا رویہ:
سوتیلی ماں بچے کے ساتھ سخت رویہ اپناتی ہے اور اسے دوسرے بچوں جیسا پیار اور احترام نہیں دیتی۔ اس رویے نے بچے کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا اور آخرکار اسے موت کے منہ میں دھکیل دیا۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام نے سوتیلے یا یتیم بچوں کے ساتھ عدل و انصاف اور محبت کا رویہ اپنانے کی تاکید کی ہے۔
3. والد کی بے خبری:
والد بچے کی کیفیت سے لاپروا رہا اور اس پر نظر رکھنے میں ناکام رہا۔ یہ رویہ یہ بتاتا ہے کہ والدین کی ذمہ داری صرف مالی ضروریات پوری کرنا نہیں، بلکہ بچوں کی جذباتی اور نفسیاتی ضروریات کا خیال رکھنا بھی ہے۔
4. ماں کی خواب میں نصیحت:
مرحوم ماں کا خواب میں آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ والد کو اپنے بچے کے بارے میں زیادہ فکر مند اور محتاط رہنا چاہیے تھا۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ یتیم بچوں کے حقوق کی حفاظت نہ کرنا بہت بڑے گناہ کا سبب بن سکتا ہے۔
5. اخلاقی سبق:
کہانی کا مرکزی سبق یہ ہے کہ ہمیں نہ صرف اپنے بچوں بلکہ دوسروں کے بچوں کے ساتھ بھی محبت، شفقت اور عدل کا رویہ اپنانا چاہیے۔ یہ ہمارے ایمان، اخلاق اور انسانی اقدار کا اہم حصہ ہے۔
6. دینی تعلیمات:
نبی کریم ﷺ نے بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو جنت کا راستہ قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ نے یتیموں کے ساتھ محبت اور شفقت کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے
اختتامی پیغام:
اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہر بچہ معصوم اور جنت کا پھول ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر بچے کو ماں کی شفقت اور باپ کی محبت کے برابر موقع دیا جائے، چاہے وہ اپنا ہو یا سوتیلا۔ اسلام ہمیں رحم، محبت، اور عدل کی تعلیم دیتا ہے، اور یہی انسانیت کی بنیاد ہے۔
Comments