رومی کے شاگرد نے چند سوالات پوچھے، جن کے جواب رومی نے اپنے خاص انداز میں دیے:
زہر کیا ہے؟
"جو چیز ہماری ضرورت سے زیادہ ہو، وہ زہر ہے۔ چاہے وہ طاقت ہو، دولت ہو، بھوک ہو، غرور ہو، لالچ ہو، سستی ہو، محبت ہو، حرص ہو، نفرت ہو یا کوئی اور چیز۔"
خوف کیا ہے؟
رومی نے کہا:
"خوف درحقیقت غیر یقینی حالات کو قبول نہ کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم غیر یقینی کو قبول کر لیں تو یہ خوف نہیں بلکہ ایک مہم جوئی بن جاتی ہے!"
حسد کیا ہے؟
رومی نے وضاحت کی:
"حسد دوسروں کی خوبیوں کو قبول نہ کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم ان خوبیوں کو تسلیم کر لیں تو یہ حسد نہیں بلکہ تحریک بن جاتی ہے!"
غصہ کیا ہے؟
رومی نے بیان کیا:
"غصہ ان چیزوں کو قبول نہ کرنے کا نتیجہ ہے جو ہمارے اختیار سے باہر ہوں۔ اگر ہم ان چیزوں کو قبول کر لیں تو یہ غصہ نہیں بلکہ برداشت بن جاتا ہے!"
نفرت کیا ہے؟
رومی نے جواب دیا:
"نفرت کسی شخص کو اس کی اصل حیثیت میں قبول نہ کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم کسی کو بغیر کسی شرط کے قبول کر لیں تو یہ نفرت نہیں بلکہ محبت بن جاتی ہے!"
بسا اوقات ہم کمزور پڑ جاتے ہیں
ایمان کی کمزوری کی وجہ سے نہیں
حیات کی تلخی کی وجہ سے!
طائف کے روز نبی کریم ﷺ کا ایمان ہرگز کم نہیں تھا
مگر ظلم کا ذائقہ کڑوا ہی بہت ہوتا ہے!!
اس بات کو سمجھو!
کہ انسان بسا اوقات ٹُوٹ پُھوٹ جاتا ہے
وہ بظاہر ہماری دنیا میں بھٹکتا پھر رہا ہوتا ہے
مگر وہ کسی اور ہی دنیا میں ہوتا ہے
جس کا ہمیں کچھ پتہ نہیں ہوتا!
انسان پر بعض لمحات ایسے گزرتے ہیں
جب وہ ایک بھی کلمہ کہنے کی ہمت نہیں پاتا
کوئی نصیحت سننے کا متحمل نہیں ہوتا
کسی انسان کا منہ تک نہیں دیکھنا چاہتا
پس ایک دوسرے کے غموں کا احترام کیا کرو
اور کسی شخص کی اس خواہش کو اہمیت دیا کرو جب وہ کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہو ...
پھر جب حالات سازگار ہوں
تو اس کو سینے سے لگاؤ
اس کی دِلجوئی کرو
اس سے وہ بات کرو جو دِل کی دِل سے بات ہوتی ہے
روح کی روح سے بات ہوتی ہے
کچھ دیر کو اپنے فلسفے پرے رکھ دو
ٹوٹے ہوئے دل کو آغوش چاہیے ہوتی ہے، درس نہیں!
زخمیدہ روح کا مرہم معانقہ ہوتا ہے، نصیحت نہیں!
غم کے لمحات جینے میں کوئی برائی نہیں ہے
درد کے مارے تھوڑا سا رو لیا کرو
کہ غم اگر دل میں رہ جائے
تو دل چیر دیتا ہے، اور ناسور بن جاتا ہے!
کچھ دور ہو جایا کرو
کہ کوئی تمہارے ٹوٹ گرنے کا تماشہ نہ دیکھے ...
تنہائی میں اللہ سے مناجات کرو
سجدے میں جا پڑو
اس غلام کی طرح گڑگڑاؤ جو ہر ایک سے مایوس ہو چکا ہو!!
اپنی انگلیوں سے اپنے دل کی طرف اشارہ کرو
اور کہو:
مولا! یہاں ایک زخم ہے
مرہم چاہیے!
پھر اپنے آنسو صاف کرو
اور لوگوں کے سامنے مضبوط بن کر نکلو
جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو
کوئی گزند پہنچا ہی نہ ہو!
کیونکہ لوگوں کی ترس کھاتی آنکھیں بجائے خود ایک زخم ہوا کرتی ہیں!!
اللہ تعالیٰ ہر اُس شخص کا مددگار ہو
جسے سر رکھنے کو کندھا میسر نہیں ہے!
(الشيخ الحبيب محمد سعيد رسلان حفظه الله)
_*"میں ڈاکو ضرور آں پر بےغيرت نئی آں۔"*_
مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمۃ الله علیہ نےاپنی کتاب میں لکھا، فرماتے ہیں:
مجھے وہاڑی کے ایک گاؤں سے بڑا محبت بھرا خط لکھا گیا
کہ مولانا صاحب ہمارے گاؤں میں آج تک سیرة النبى صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیان نہیں ہوا۔
ہمارا بہت دل کرتا ہے، آپ ہمیں وقت عنایت فرما دیں ہم تیاری کر لیں گے۔
میں نے محبت بھرے جزبات دیکھ کر خط لکھ دیا کہ فلاں تاریخ کو میں حاضر ہو جاؤں گا۔
دیے گئے وقت پر میں فقیر ٹرین پر سے اتر کر تانگہ پر بیٹھ کر گاؤں پہنچ گیا تو آگے
میزبانوں نے مجھے ھدیہ پیش کرکے کہا
مولانا صاحب آپ جا سکتے ہیں،
ہم بیان نہیں کروانا چاہتے۔
وجہ پوچھی تو بتایا کہ ہمارے گاؤں میں %90 قادیانی ہیں
وہ ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں
کہ
نہ تو تمہاری عزتیں
نہ مال
نہ گھربار محفوظ رہیں گے۔
اگر
سیرة النبى (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بیان
کروایا تو۔
مولانا ہم کمزور ہیں
غریب ہیں
تعداد میں بھی کم ہیں
اس لیے ہم نہیں کرسکتے۔
میں نے لفافہ واپس کر دیا اور کہا
بات تمہاری ہوتی یا میری ہوتی تو واپس چلا جاتا۔
بات مدینے والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کی آگئی ہے۔
اب بیان ہوگا ضرور ہوگا۔
وہ گھبرا گئے کہ حضرت
آپ تو چلے جائیں گے مسئلہ تو ہمارے لیے ہوگا۔
میں نے کہا،
"اس گاؤں کے آس پاس کوئی ڈنڈے والا یعنی بااثر یا غنڈہ ہے؟"
انہوں نے بتایا کہ گاؤں سے کچھ دُور نُورا ڈاکو رہتا ہے !
پُورا علاقہ اس سے ڈرتا ہے۔
میں نے کہا چلو مجھے لے چلو نُورے کے پاس
جب ہم نورے کے ڈیرے پر پہنچے دیکھ
کر نورا بولا اج خیر اے!
مولوی کیویں آگئے نے؟
میں نے کہا کہ
بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کی آگئی ہے تم کچھ کرو گے؟
میری بات سن کر نورا بجلی کی طرح کھڑا ہوا اور بولا،
"میں ڈاکو ضرور آں پر بےغيرت نئی آں۔"
وہ ہمیں لے کرچل نکلا
مسجد میں 3 گھنٹے بیان کیا میں نے۔
اور نورا ڈٹ کر کھڑا رہا۔
آخر میں نورے نے یہ کہا
کہ اگر کسی نےمسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو نورے سے بچ نہیں سکے گا۔
میں واپس آگیا
کچھ ماہ بعد میرے گھر پر ایک آدمی آیا
سر پر عمامہ
چہرے پرداڑھی
زبان پر درود پاک کا ورد ۔۔۔!
میں نے پوچھا،
"کون ہو..؟ "
وہ رو کر
بولا،
"مولانا …
میں نورا ڈاکو آں۔
جب اس دن میں واپس گھر کو لوٹا جا کر سو گیا.
آنکھ لگی ہی تھی
پیارے مصطفٰی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے خواب میں تشریف لائے۔
میرا ماتھا چوما اور فرمایا،
"آج تو نے میری عزت پر پہرہ دیا ہے، میں اور میرا اللہ تم سے خوش ہوگئے ہیں۔
اللہ نے
تیرے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے ہیں."
مولانا صاحب اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو سب کچھ بدل چکا تھا اب تو ہر وقت آنکھوں سے آنسو ہی خشک نہیں ہوتے مولانا صاحب میں آپ کاشکریہ ادا کرنے آیا ہوں آپ کی وجہ سے تو میری زندگی ہی بدل گئی میری آخرت سنور گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے پیارے اللہ جو شخص بھی اس کو شیئر کررہاہےاس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت اور قیامت کے دن شفاعت نصیب فرما، آمین🤲🏻
*آسیہ*
آسیہ، فرعون کی بیوی، اُس زمانے کے عظیم ترین محل میں رہتی تھی۔ اُس کے پاس بے شمار نوکر اور کنیزیں تھیں، اور اس کی زندگی آسائشوں سے بھری ہوئی تھی۔ اُس کا شوہر، فرعون، ایک ظالم اور جابر حکمران تھا، جس نے خود کو لوگوں کا خدا بنا لیا تھا اور دعویٰ کیا تھا: "میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔"
یہ فرعون، جو کبھی ایک حقیر نطفہ تھا، دولت، فوج اور غلاموں کے غرور میں مبتلا ہو گیا تھا۔ لیکن اُس کے قریب ترین انسان، اُس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم، نے اُس کی خدائی کے دعوے کو چیلنج کیا۔ ابتدا میں وہ اپنے ایمان کو چھپاتی رہی، مگر جب اُس نے ایمان کا اعلان کیا، تو فرعون نے اُسے ہر طرح کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔
آسیہ ان چار خواتین میں سے ایک تھیں، جو دنیا کی عظیم ترین خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔
ایک دن فرعون نے ایک ماں، جو اپنی بیٹی کے بال سنوار رہی تھی، کو اللہ کا نام لینے پر اُبلتے تیل میں اُس کے بچوں سمیت ڈال دیا۔ آسیہ کو جب یہ بات بتائی گئی، تو اُس نے اپنے شوہر سے کہا: "تم پر افسوس ہے! تم اللہ کے مقابلے میں کتنے بے خوف ہو!"
فرعون نے جواب دیا: "کیا تم پر بھی وہی جنون طاری ہو گیا ہے جو اُس ماں پر ہوا تھا؟"
آسیہ نے جواب دیا: "نہیں، مجھے کوئی جنون نہیں ہوا، لیکن میں اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی ہوں۔"
فرعون نے آسیہ کی ماں کو بلایا اور کہا: "تمہاری بیٹی پر بھی وہی جنون طاری ہو گیا ہے جو ماں پر تھا!"
اُس نے قسم کھائی کہ یا تو وہ اپنے ایمان سے پلٹے گی یا موت کو قبول کرے گی۔
آسیہ کی ماں نے اُس سے کہا کہ وہ فرعون کی بات مان لے، مگر آسیہ نے صاف انکار کر دیا۔
یہ تھا اُس کا عزم... اُس نے طاقت اور جبر کے آگے سر نہ جھکایا۔
جب فرعون نے دیکھا کہ آسیہ اپنے ایمان سے پیچھے نہیں ہٹے گی، تو اُس نے اُسے صحرا میں لے جا کر چار کھونٹوں کے درمیان باندھ دیا، بغیر کھانے پینے کے، اور اُسے تین دن تک تپتی دھوپ میں چھوڑ دیا۔
پہلے دن، فرعون آیا اور اُس سے پوچھا: "کیا تم پلٹتی ہو؟"
آسیہ نے جواب دیا: "نہیں، یہ تو میرے ایمان میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔"
دوسرے دن بھی اُس نے یہی پوچھا، اور آسیہ کا جواب وہی تھا۔
تیسرے دن اُس نے پھر پوچھا: "کیا تم پلٹتی ہو؟"
آسیہ نے کہا: "میں پلٹنے والی نہیں ہوں۔"
فرعون نے حکم دیا کہ ایک بڑی چٹان کو اُٹھا کر اُس کے اوپر پھینکا جائے۔ اگر وہ اپنے ایمان سے پلٹ آئے تو اُسے زندہ چھوڑا جائے، ورنہ اُسے قتل کر دیا جائے۔
لیکن اُس لمحے، آسیہ نے اللہ کی طرف دیکھ کر دعا کی:
"اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھے فرعون اور اُس کے عمل سے نجات دے، اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے!"
اللہ نے اُس کی بصیرت کو کھول دیا اور اُس کو جنت میں اُس کا مقام دکھایا، جسے دیکھ کر وہ خوش ہو گئی اور ہنس پڑی۔
فرعون اور اُس کے ساتھی حیران تھے کہ وہ کیوں ہنس رہی ہے، جبکہ اُسے عذاب دیا جا رہا ہے!
اللہ نے اُس کی روح کو جنت میں منتقل کر دیا، اور جب چٹان اُس کے جسم پر گری، تو وہ درد محسوس نہ کر سکی، کیونکہ اُس کی روح پہلے ہی جنت میں جا چکی تھی۔
اللہ آسیہ سے راضی ہو گیا اور اُس کا مقام جنت میں مقرر کیا۔
🤍
✍️*سنو پیاری لڑکی*
حرام تعلق میں اتنا دور کیسے آ گٸی؟ ایک نا محرم نے تعریف کی اور آپ اس کی تعریف پے خوش کیسے ہو گئی؟
ایک نا محرم نے کہا مجھے آپ سے محبت ہے اور آپ کو اس کی محبت پے یقین کیسے آگیا؟
*اصل محبت تو نکاح کے بعد ہوتی ہے نا پیاری لڑکی*
آپ کو پوری دنیا میں اُس ایک شخص کی محبت نظر آئی اُسکی فکر نظر آئی۔۔
وہ محبت اور فکر نظر کیوں نہیں آئی جو آپ کے والدین آپ سے کرتے ہیں۔وہ محبت نظر کیوں نہیں آئی جو اللہ پاک آپ سے کرتے ہیں۔
نا محرم سے دوستی کر لی اللہ پاک سے دوستی کیوں نہیں کی؟
اللہ پاک سے اتنی دور کیسے آ گئی
*پیاری لڑکی ۔۔*
ایک شخص کے لیے اللہ کو چھوڑ دیا
اور اللہ کے لیے ایک نا محرم کو چھوڑنا مشکل لگ رہا۔۔
*سنو پیاری لڑکی!*
اس شخص کا نعم البدل ہے لیکن اللہ کا نہیں ہے۔
اللہ کے چھوڑ دیا تو کہا جاؤ گی؟
ایک نا محرم کے لیے اللّٰہ کو ناراض مت کرو۔۔
ایک نا محرم کی دوستی چھوڑ دو اور اللہ سے دوستی کر لو.
آپ کی زندگی میں 3 قسم کے لوگ آئیں گے۔
1. درخت کے پتوں جیسے لوگ
2. شاخوں اور ٹہنیوں جیسے لوگ
پتوں جیسے لوگ:
یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کی زندگی میں صرف ایک موسم کے لیے آتے ہیں۔ آپ ان پر انحصار نہیں کر سکتے کیونکہ وہ کمزور ہیں۔ وہ صرف جو چاہتے ہیں لینے آتے ہیں، لیکن ہوا آئی تو چلے جائیں گے۔
آپ کو ان لوگوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب حالات ٹھیک ہوتے ہیں تو یہ آپ سے پیار کرتے ہیں لیکن جب ہوا آئے گی تو وہ آپ کو چھوڑ دیں گے ۔🌹
شاخوں اور ٹہنیوں جیسے لوگ:
یہ لوگ مضبوط ہیں، لیکن آپ کو ان کے ساتھ بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ جب زندگی مشکل ہوجاتی ہے اور وہ بہت زیادہ وزن نہیں سنبھال پاتے ہیں تو وہ الگ ہوجاتے ہیں۔ وہ کچھ موسموں میں آپ کے ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن جب یہ مشکل ہو جائے گا تو چلے جائیں گے۔
جڑوں جیسےلوگ:
یہ لوگ بہت اہم ہیں کیونکہ یہ دکھاوا نہیں کرتے ۔ یہ آپ کا ساتھ دل سے دیتے ہیں
یہاں تک کہ اگر آپ کسی مشکل وقت سے گزر رہے ہوں تو آپ کی ہر طرح مدد کریں گے اور وہ آپ کی پوزیشن سے متاثر نہیں ہوتے ہیں وہ آپ سے اسی طرح پیار کرتے ہیں ...پتّے، شاخیں درخت کا حصہ ہوتے ہیں مگر اگر جڑیں ہی نہ ہوں تو باقی درخت ہی نہیں پروان چڑھ سکتا...
واقعی کچھ لوگ آپ کی زندگی میں ایسی جڑیں بن کر آتے ہیں کہ درخت بہت بڑھ جاتا ہے اور اگر جڑیں مضبوط نہ ہوں تو بڑھ ہی نہیں سکتا...
Comments