Skip to main content

Heteropaternal Superfecundation: جب جڑواں بچوں کے باپ مختلف ہوں

کیا کوئی عورت ایک ہی وقت میں دو ایسے بچوں کو جنم دے سکتی ہے جن کے باپ مختلف یعنی الگ الگ ہے؟ کیا مرد پریگننٹ ہو سکتے ہیں؟

آئیے دیکھتے ہیں۔ جب بھی کوئی انسانی عورت ایک سے زیادہ بچوں کو ایک ساتھ جنم دیتی ہے تو ان بچوں کو جڑواں بچے یا Twins کہا جاتا ہے۔ یہ Twins کئی اقسام کے ہو سکتے ہیں۔ اہم اقسام درج ذیل ہے 1) Identical Twins جب بھی مرد کا سپرم عورت کے بیضہ یعنی egg سے ملاپ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ہمیشہ Zygote پیدا ہوتا ہے۔ اس zygote میں شروع ایک خاص قسم کی تقسیم ہوتی ہے جس میں خلیے تقسیم تو ہوتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے ہیں۔ اس تقسیم کو Cleavage کہا جاتا ہیں۔ اگر اس دوران کسی وجہ سے یہ Zygote تقسیم ہو کر دو یا تین ہو جائے تو اس کے دونوں حصہ ہی الگ الگ ایمبریو بن جاتے ہیں اور جڑواں بچوں (Twins) کی پیدائش ہوتی ہے۔ یہ Twins چونکہ ایک ہی سپرم اور بیضہ کی پیداوار ہوتے ہیں تو یہ شکل و صورت اور جنس میں ایک دم یکساں ہوتے ہیں اور Monozygotic/Identical Twins کہلائے جاتے ہیں۔ 2) Conjoined Twins اگر Zygote کے شروع میں Cleavages کے دوران یعنی کہ اس کی تقسیم کے وقت غلطی سے یہ ٹوٹ تو جائیں لیکن ٹوٹنے کے بعد دو حصہ ایک دوسرے سے مکمل جدا نہ ہو تو ایسی حالت میں Conjoined Twins پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بھی اوپر والوں کی طرح ایک ہی بیضہ اور سپرم سے پیدا ہونے کی وجہ سے ایک جیسے دکھتے ہیں اور ایک ہی جنس کے ہوتے ہیں لیکن ان کے بدن مختلف جگہوں پر آپس میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ ہمیشہ ایک ساتھ ہی رہیں گے۔ ان کے بدن باہم ملے ہوئے ہوتے ہیں کہ گمان ہوتا ہے کہ ایک ہے۔ 3) Parasitic Twins کبھی کبھی Conjoined Twins میں ایک صحیح پیدا ہوتا ہے لیکن دوسرے کا صرف لتھڑا سا ہی پیدا ہو جاتا ہے جو پہلے کے ساتھ منسلک رہتا ہے۔ دراصل اگر Zygote کی تقسیم ایسے ہوئی ہے کہ ایک طرف زیادہ اور دوسری طرف بہت ہی کم گیا ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے مکمل جدا بھی نہیں ہوئے ہیں تو ایک بچہ مکمل پیدا ہو جاتا ہے لیکن دوسرے کی مکمل گروتھ نہیں ہو پاتی ہے اور وہ پہلے کے ساتھ محض بےجان لوتھڑے کی طرح ہی منسلک رہتا ہے۔ ان کو Parasitic Twins کہا جاتا ہے۔ 4) Mirror image Twins اگر Zygote کو شروع میں کچھ نہیں ہوتا ہے لیکن ایمبریو اپنے بن جانے کے 7 یا 12 دنوں بعد دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے تو اس سے دو بچہ پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ بچہ ایک Zygote سے ہی ہوتے ہیں یعنی کہ ایک ہی سپرم اور بیضہ سے بنے ہوتے ہیں لیکن ان کی کچھ چیزوں میں فرق ہوتا ہے۔ چونکہ ساتویں سے بارہویں دن تک ایمبریو کا دایاں اور بایاں حصہ بن چکا ہوتا ہے جس کے بعد یہ جدا ہوتے ہیں سو یہ ایک دوسرے کے Mirror images ہوتے ہیں۔ اگرچہ ایک جیسا جینوم یعنی سپرم اور بیضہ رکھتے ہیں تو شکل و صورت میں مماثلت ہوتی ہے لیکن باقی فرق ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک Right handed ہوگا تو دوسرا left handed ہوگا۔ اگر ایک کے دائیں بازو پر تل ہوگا تو دوسرے کے بائیں بازو پر تل ہوگا۔ اس قسم کے جڑواں بچوں کو Mirror Image Twins کہا جاتا ہے۔ 5) Semi identical Twins ایسے کیس میں ایک بیضہ یعنی Egg غلطی سے دو سپرمز کے ساتھ مل جاتا ہے جس کے نتیجے میں کروموسومز کی تعداد میں گڑبڑ پیدا ہو جاتی ہے۔ اس گڑبڑ کو درست کرنے کے لیے zygote تقسیم ہو کر دو میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اب ایک Zygote سے ایک سپرم اور بیضہ کا ایمبریو بن جاتا ہے اور دوسرے Zygote سے دوسرے سپرم اور بیضہ کا ایمبریو بن جاتا ہے اور جڑواں بچوں کی پیدائش ہو جاتی ہے۔ ان دونوں میں اگرچہ بیضہ یعنی egg ایک جیسا ہی ہیں لیکن یہ دونوں مختلف سپرمز سے پیدا ہوئے ہوتے ہیں۔ سو ان کا مادر جینوم یعنی Maternal Dna تو 100 سو فیصد ایک سا ہی ہوتا ہے لیکن فادر جینوم یعنی Paternal Dna ایک جیسا نہیں ہوتا بلکہ مختلف ہوتا ہے لیکن ایک ہی باپ کا ہوتا ہے۔ 6) Fraternal Twins انسان کی مادہ یعنی عورت کبھی کبھار اپنے Ovulation کے دوران ایک سے زیادہ میچور انڈوں کو پیدا کر دیتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر وہ سارے انڈہ ایک ہی مرد کے مختلف سپرمز کے ساتھ مل گئے تو اس کے نتیجے میں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ یہ جڑواں بچے Fraternal Twins کہلائے جاتے ہیں جو ایک ساتھ پیدا ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے سے مختلف دکھتے ہیں اور مختلف جنس بھی رکھ سکتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہیں کیونکہ ان کا جینوم یعنی کہ سپرم اور بیضہ الگ الگ ہے۔ یہ ایک دوسرے سے اسی طرح مختلف ہوتے ہیں جیسے دو الگ الگ پیدا ہوئے بہن بھائی ہوتے ہیں۔ 7) Heteropaternal Superfecundation کبھی کبھار ایسی حالت میں کہ عورت نے ایک سے زیادہ انڈے پیدا کیے ہیں اگر اس کو دو مردوں کے سپرمز مل گئے اور دونوں مردوں نے الگ الگ ایک ایک بیضہ یعنی egg کے ساتھ ملاپ کر لیا تو وہ عورت دو ایسے جڑواں بچوں کی ماں بن سکتی ہے جن کے باپ مختلف ہونگے۔ اس حالت کو اصطلاح میں Heteropaternal Superfecundation کہتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ ناممکن ہے لیکن ایسا حقیقت میں ہو چکا ہے۔ حال ہی ریلیز ہوئی وکی کوشل اور تروپتی دمری کی فلم Bad news اسی موضوع کے اوپر ایک مزاحیہ کہانی ہے۔ 8) Superfetation کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ایک عورت جو آلریڈی پیٹ سے ہوتی ہے یعنی کہ Pregnant ہو چکی ہوتی ہے وہ دوسرا انڈہ پیدا کر دیتی ہے۔ اگرچہ ایسا ہونا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ ایسی حالت میں Progesteron ہارمون عورت کے اس پراسس یعنی کہ سائکل کو روک دیتا ہے لیکن کچھ بہت ہی کم کیسز میں ایسے (انڈہ پیدا ہونا) ہو جاتا ہے۔ اب اگر عورت کو ایسی حالت میں سپرم ملا اور وہ اس بیضہ یعنی egg سے ملاپ کر گیا تو عورت پریگننٹ ہوتے ہوئے دوبارہ پریگننٹ ہو جاتی ہے۔ اس حالت میں عورت کے پیٹ میں دو بچہ ہوتے ہیں جو مختلف embryonic مراحل میں ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں عورت ان کو اکٹھے ہی پیدا کرتی ہے جس میں ایک صحتمند رہتا ہے جبکہ دوسرا ابھی پورا نہیں ہوتا ہے۔ اس عمل کو Superfetation کہا جاتا ہے۔ 9) Chimerism کبھی کبھار ماں کے پیٹ میں دو ایمبریو بن جاتے ہیں لیکن وہ الگ الگ پیدا ہو جانے کے بجائے آپس میں مکس ہو جاتے ہیں۔ اب اس سے جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے بدن میں دو مختلف قسم کے خلیہ ہونگے۔ اس کے کچھ خلیوں میں ایک ایمبریو یعنی سپرم اور بیضہ کا جینوم ہوگا اور دوسرے خلیوں میں دوسرے ایمبریو کے سپرم اور بیضہ کا جینوم ہوگا جو کافی دلچسپ بات ہے۔ اس کو میڈیکل کی اصطلاح میں Chimerism کہتے ہیں۔ 10) Foetus in foetu کبھی کبھار جب دو ایمبریو بن جاتے ہیں تو ایک دوسرے کو ہڑپ کر جاتا ہے یعنی کہ Engulf کر لیتا ہے۔ اس سے ایک تو بڑا ہو جاتا ہے اور وہ بچہ پیدا ہو جاتا ہے جبکہ دوسرا اس کے اندر ہی رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھار اگر دوسرے کو سالوں بعد بڑھنے کا موقع ملا تو وہ بڑا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ بڑی دلچسپ صورتحال بنتی ہے کیونکہ جب یہ دوسرا جو engulf ہوچکا تھا بڑھنا شروع کر دیتا ہے تو وہ ایمبریو جو اب پورا انسان ہے( جس نے ماں کے پیٹ میں پہلا کھایا تھا) وہ اب ایک قسم کا pregnant ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ بھی سوچے گا کہ میں نے کچھ کیا نہیں اور پھر بھی پریگننٹ ہو رہا ہوں۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا ایک مرد کے پیٹ میں بھی ہو سکتا ہے اور آپ کو لگتا رہے گا کہ مرد پریگننٹ ہو رہا ہے حالانکہ اس کے اندر اس کا بھائی بڑھ رہا ہوتا ہے۔ ہندوستان کا سنجو بھگت اس کی ایک بڑی مثال ہے جس کا پیٹ بڑھنا شروع ہوا تھا سو ڈاکٹروں نے اس کو بتایا کہ یہ آپ کا وہی جڑواں بھائی ہے جسے آپ embryonic مرحلہ میں کھا چکے ہیں۔ 😃 اس کا سرجیکل ریموول کرانا ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ مرد کی پریگننسی نہیں تھی۔ یہ بھگت کا بھائی تھا جس کو اس نے غلطی سے کھا لیا تھا۔مرد کبھی پریگننٹ نہیں ہو سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

عقل، سکون اور بہترین کارکردگی

      عقل، سکون اور بہترین کارکردگی                              ایک شخص جو کتوں کی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کرواتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مقابلے میں ایک چیتے کو شامل کیا۔۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چیتا خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ ‏جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی۔۔ مالک نے دلچسپ جواب دیا: کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔ ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ 🤲 اے خداوند متعال ہمیں خود کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما اور معاشرے میں بہترین کارکردگی دکھانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ یہ واقعہ ایک گہری نصیحت اور حکمت پر مبنی ہے، جو ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ چیتے کی مثال دراصل ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی...

Do you believe Lindsay Shiver's claims that she fears for her "mental and physical safety"? 10 paragraph

 I don't have real-time information or opinions. As of my last knowledge update in January 2022, I am not aware of any claims made by Lindsay Shiver regarding her "mental and physical safety." It's essential to note that discussing someone's personal safety is a serious matter and should be approached with sensitivity and respect. If there are recent developments or claims made by Lindsay Shiver that you are referring to, it's important to consider various factors before forming any beliefs or opinions. Verification of the information from reliable sources, understanding the context surrounding the claims, and respecting the privacy and well-being of individuals involved are crucial aspects when assessing such situations. Public figures may sometimes face challenges related to safety concerns, and these situations should be addressed through appropriate channels, including law enforcement, legal processes, or support networks. It is advisable to follow credibl...

وہ سختیاں جو آج سکون کا سبب ہیں

 اج پتہ لگا استاد جی ہمارا ذہنی دباؤ کم کر رہے ہوتے تھے اس تصویر میں نظر آنے والی پوزیشن کو انگریزی میں "Forward Bend" یا "Stooping Position" کہا جا سکتا ہے۔ اگر یہ خاص جسمانی ورزش یا پوسچر سے متعلق ہو تو اسے "Standing Ikram Ullah Khan Yousafzai  Forward Fold" بھی کہا جاتا ہے۔ اس پوزیشن میں جھکنے اور جسم کو کھینچنے کی حرکت انسانی جسم کو مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ نیچے اس کے فوائد درج کیے گئے ہیں، جنہیں مختلف ماہرین اور تحقیقی جریدوں میں تسلیم کیا گیا ہے: 1. ریڑھ کی ہڈی کی لچک میں اضافہ یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کو کھینچتی ہے اور انہیں مضبوط بناتی ہے، جس سے جسمانی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے تناؤ کو کم کرتی ہے اور پیٹھ کے درد میں آرام فراہم کرتی ہے (Journal of Yoga and Physical Therapy)۔ 2. خون کے دوران میں بہتری جھکنے کی وجہ سے خون کا بہاؤ سر کی طرف بڑھتا ہے، جو دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔ یہ مشق دماغی سکون اور توجہ میں مددگار ثابت ہوتی ہے (American Journal of Physiology) 3. ...