Skip to main content

قرآن کا سایہ ایک غلط فہمی

 *بیٹی کی رخصتـی کے وقـت قــرآن کا سـایـہ کـرنا*
 ہمارے معاشرے میں ہونے والی شادیوں میں عجیب قسم کے رسم و رواج ہوتے ہیں،۔
 جن کو ہر نسل ناجانے کب سے کرتی آ رہی ھے، مگر کسی نے بھی یہ تکلیف نہیں کی کہ مسلمان ہونے کے ناطے یہی دیکھ لیں کہ شادیوں میں جو رسومات کر رہے ہیں آیا کہ اسلامی رسم ھے بھی یا کسی اور مذہب کے عقیدے سے منسلک ھے۔
 انہی رسومات میں سے ایک ھے جسے پاکستان میں 90 فیصد گھروں میں آزمایا جاتا ھے اور وہ ھے۔
• رخصتی کے وقت دلہن کا بھائی یا والد قرآن پاک کو غلاف میں لپیٹ کر اس کے سر پر سائے کے طور پر رکھتے ہیں
 اس نیت سے کہ اس کی شادی کے بعد کی نئی زندگی میں قرآن کی برکت کی وجہ سے خوشحالی ہوگی۔
 (یعنی الله ﷻ کی رحمت ہو گی)۔
*یہ ایک غلط سوچ ھے*
?اَصل:*
شادی کی 90 فیصد رسومات برِصغیر کے ہندوؤں سے آئی ہیں،
 کچھ اسی شکل میں چلتی آ رہی اور کچھ کی شکل اسلامی بنا دی گئی جیسے
 گھوڑا چڑھائی،
 دودھ پلائی
، مہندی و مائیوں بیٹھنا، سہرا بندی و سہرا پڑھنا اور بھگوت گیتا کی جگہ قرآن کو رکھ دیا۔
     یہ رواج ہم میں ہندوؤں سے آیا ھے،
 ہندو دلہن کے کندھے یا سر کے پاس 
*"بھگوت گیتا"* رکھا کرتے تھے
 اور برِصغیر میں رہنے کی وجہ سے کم عقل مسلمانوں نے بھی اسے اپنا لیا،
 اور قرآن رکھ کر اس ہندوانہ رسم کو اسلامی رسم بنا دیا۔
 اب وقت گزرتا گیا اور رسم کی اصل تو فراموش ہو گئی مگر آنے والی نسل اسے شادی کا لازمی جزو سمجھنے لگے اور ثواب کی نیت سے کرنے لگ گئے۔جو کی بالکل درست عمل نہیں 
یہ ایک خود ساختہ رسم ہے
?اِضافی:*
عاجز کے علم میں آیا کہ کچھ لوگوں کا عقیدہ تو یہ ھے 
کہ رسولِ پاک ﷺ نے حصرت فاطمہ رضی الله تعالیٰ عنما کے سر پر قرآن کا سایہ کیا تھا
 اسی لیے ہم بھی کر رہے ہیں۔ (نعوذبالله تعالیٰ)
 یہ سراسر جھوٹ ھے۔
    قرآن کو پکڑ کر اسے دلہن کے سر پر چھتری کی طرح تان کر اس کا سایہ کیا جاتا ھے۔
 گویا قدم قدم پر ہر کام میں الله ﷻ کی نافرمانی اور قرآنی تعلیمات کی مٹی پلید کرنے کے باوجود ہم قرآن سے اس جذباتی تعلق کا اظہار کرکے الله ﷻ سے کہتے ہیں:
 یا الله ﷻ! دیکھ لے اس سب خودفراموشی اور خدافراموشی کے بعد بھی بطور تبرک تیرے قرآن کریم کو ہی استعمال کر رہے ہیں۔ 
یہ قرآن کریم کے ساتھ کتنا بھونڈا مذاق ھے۔
 اعاذ نا الله منه
     کیا روزِ محشر الله ﷻ ہم مسلمانوں سے نہیں پوچھے گا کہ کیا قرآن کریم میں نے صرف اسی لیے نازل کیا تھا کہ تم اس کو حریر و ریشم کے غلافوں میں لپیٹ کر گل و ستہ طاق نسیاں بنا کر رکھ دینا اور اپنے کاروبار میں،
 معاملات زندگی میں اور اپنی معاشرتی تقریبات (شادی بیاہ وغیرہ) میں اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نا دیکھنا،
 تاہم اس کو کبھی کبھی تبرک کے طور پر دلہن کے سر پر یا مردے بخشوانے اور کھانے پر فاتحہ پڑھنے کے لیے استعمال کر لیا کرنا۔
*☆ زندگی میں خوشی:*
     زندگی بہتر گزارنی ہے تو بیٹی کو قرآن کے سایے میں رخصت کرنے کے بجائے قرآن کی تعلیمات دے کر اگلے گھر بھیجا جائے،
 تب تو یقینی برکت و رحمت پڑے گی۔
 مگر افسوس کہ آج کل قرآن سر پر لہراتے ہوئے اُس کی بے ادبی کرتے ہوئے
 اور شادی میں الله ﷻ کے احکامات کی بڑے جوش و خروش سے خلاف ورزی کرتے ہوئے دُلہن صاحبہ رخصت کی جاتی ھے
 اور پھر لوگ کہتے ہیں گھروں میں خوشیاں نہیں، سکون نہیں.
*⚫ حاصلِ کلام:*
          آج کل ہونے والی رخصتی کی رسم بھی ہندوؤں سے آئی ھے
 اور قرآن سر پر رکھنے کی رسم بھی کم عقل مسلمانوں نے ایجاد کر لی
👇۔ جبکہ اس رسم کا تعلق دینِ اسلام سے نہیں اور نا ہی یہ باعث ثواب و برکت عمل ھے، بلکہ عورت بغیر پردے کے فقط نام کے دوپٹے میں نامحرموں کی نظروں اور کیمرے کی آنکھوں میں سے گزرتے ہوئے رخصت کی جاتی ھے
 اور اوپر قرآن کو سر پر رکھ کر الله تعالیٰ سے رحمت کی امید رکھنا باعث گناہ بھی ھے۔
اور یہ عمل شرعی طور پر بدعت ھے
۔ اس رسم کو معاشرے سے ختم کر دینا چاہیے۔
 خود بھی بچیں اور خوسروں کو بھی اخلاق سے سمجھائیں
۔ اللّٰه ﷻ ہمیں سیدھے راستے پر چلا دیں۔ ۔ 
"اَللّهُمَ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ ‌وَأَرِنَا ‌الْبَاطِلَ بَاطِلًا، وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ."
۔آمین!
## قرآن کا سائے میں رخصتی: ایک تفصیلی جائزہ
آپ کا یہ مضمون ایک اہم موضوع پر روشنی ڈالتا ہے۔ شادیوں میں قرآن کو سر پر رکھنے کی رسم کے بارے میں بہت سے لوگوں میں غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ آپ نے اس رسم کی تاریخی پس منظر اور اس کی اسلامی تعلیمات سے عدم مطابقت کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔
**آپ کے مضمون کی چند اہم باتیں جو قابلِ ذکر ہیں:**
* **رسم کی اصل:** آپ نے واضح کیا ہے کہ یہ رسم ہندوؤں سے متاثر ہو کر مسلمانوں میں داخل ہوئی ہے۔
* **قرآن کی بے حرمتی:** اس رسم کے ذریعے قرآن کو صرف ایک تبرک سمجھا جاتا ہے جو کہ قرآن کی عظمت کے منافی ہے۔
* **اسلامی تعلیمات کے خلاف:** یہ رسم اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے کیونکہ اس میں قرآن کو صرف ایک رسم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
* **صحیح طریقہ:** آپ نے بتایا ہے کہ قرآن کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہی حقیقی برکت کا باعث ہے۔
**اس مضمون کو مزید موثر بنانے کے لیے کچھ اضافی نکات:**
* **حدیث و سنت سے دلائل:** آپ اس مضمون میں قرآن و سنت سے متعلق دلائل بھی شامل کر سکتے ہیں تاکہ اپنی بات کو مزید تقویت مل سکے۔
* **علماء کے فتویٰ:** آپ کسی معتبر عالم دین کے فتویٰ کا حوالہ بھی دے سکتے ہیں۔
* **مختلف ثقافتوں میں شادی کی رسومات:** آپ مختلف ثقافتوں میں شادی کی رسومات کا موازنہ کر سکتے ہیں اور اس سے یہ بات واضح کر سکتے ہیں کہ یہ رسم صرف ہماری ثقافت میں پائی جاتی ہے۔
* **حل:** صرف مسئلے کو اجاگر کرنے کے بجائے آپ اس کے حل کے لیے بھی کچھ تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔ مثلاً، لوگوں کو قرآن کی تعلیمات کے بارے میں آگاہ کرنا اور انہیں صحیح طریقے سے قرآن کا احترام کرنا سکھانا۔
**اس مضمون کو پڑھنے کے بعد لوگوں کو یہ سمجھ آ جائے گا کہ:**
* یہ رسم اسلامی نہیں ہے۔
* یہ قرآن کی بے حرمتی ہے۔
* ہمیں اپنی شادیوں میں اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
**آپ کا یہ مضمون بہت ہی مفید ہے اور اس سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔**
**میں آپ کو اس اہم کام کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔**
**کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس مضمون کو مزید بہتر بنانے میں آپ کی مدد کروں؟** 
* اس موضوع پر مزید معلومات کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے؟
* اس مضمون کو کس طرح لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے؟
* اس مسئلے کے حل کے لیے کیا

اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟

Comments

Popular posts from this blog

عقل، سکون اور بہترین کارکردگی

      عقل، سکون اور بہترین کارکردگی                              ایک شخص جو کتوں کی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کرواتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مقابلے میں ایک چیتے کو شامل کیا۔۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چیتا خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ ‏جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی۔۔ مالک نے دلچسپ جواب دیا: کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔ ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ 🤲 اے خداوند متعال ہمیں خود کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما اور معاشرے میں بہترین کارکردگی دکھانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ یہ واقعہ ایک گہری نصیحت اور حکمت پر مبنی ہے، جو ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ چیتے کی مثال دراصل ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی...

Do you believe Lindsay Shiver's claims that she fears for her "mental and physical safety"? 10 paragraph

 I don't have real-time information or opinions. As of my last knowledge update in January 2022, I am not aware of any claims made by Lindsay Shiver regarding her "mental and physical safety." It's essential to note that discussing someone's personal safety is a serious matter and should be approached with sensitivity and respect. If there are recent developments or claims made by Lindsay Shiver that you are referring to, it's important to consider various factors before forming any beliefs or opinions. Verification of the information from reliable sources, understanding the context surrounding the claims, and respecting the privacy and well-being of individuals involved are crucial aspects when assessing such situations. Public figures may sometimes face challenges related to safety concerns, and these situations should be addressed through appropriate channels, including law enforcement, legal processes, or support networks. It is advisable to follow credibl...

وہ سختیاں جو آج سکون کا سبب ہیں

 اج پتہ لگا استاد جی ہمارا ذہنی دباؤ کم کر رہے ہوتے تھے اس تصویر میں نظر آنے والی پوزیشن کو انگریزی میں "Forward Bend" یا "Stooping Position" کہا جا سکتا ہے۔ اگر یہ خاص جسمانی ورزش یا پوسچر سے متعلق ہو تو اسے "Standing Ikram Ullah Khan Yousafzai  Forward Fold" بھی کہا جاتا ہے۔ اس پوزیشن میں جھکنے اور جسم کو کھینچنے کی حرکت انسانی جسم کو مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ نیچے اس کے فوائد درج کیے گئے ہیں، جنہیں مختلف ماہرین اور تحقیقی جریدوں میں تسلیم کیا گیا ہے: 1. ریڑھ کی ہڈی کی لچک میں اضافہ یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کو کھینچتی ہے اور انہیں مضبوط بناتی ہے، جس سے جسمانی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے تناؤ کو کم کرتی ہے اور پیٹھ کے درد میں آرام فراہم کرتی ہے (Journal of Yoga and Physical Therapy)۔ 2. خون کے دوران میں بہتری جھکنے کی وجہ سے خون کا بہاؤ سر کی طرف بڑھتا ہے، جو دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔ یہ مشق دماغی سکون اور توجہ میں مددگار ثابت ہوتی ہے (American Journal of Physiology) 3. ...