Skip to main content

غزہ کی آگ کیا ہماری وجدان جاگتی ہے؟

 اللہ ہم سب سے پوچھیں گے

روزِ قیامت ہر نفس کو اس کی استطاعت کے مطابق جواب دینا ہوگا۔

پوچھا جائے گا کہ تم نے مظلوموں کے لیے کیا کیا؟

مجھے خوف سے لرزہ طاری ہوتا ہے...

کیونکہ اللہ کا انتقام بےحد سخت ہے، اور وہ ہر ظالم سے حساب لیں گے، کوئی بچ نہ سکے گا۔

مگر آج دنیا نے غزہ کو تنہا چھوڑ دیا ہے...

جو دعا کرسکتا تھا، اس نے دعا کیوں نہیں کی؟

جو معاشی بائیکاٹ کرسکتا تھا، وہ کس حد تک کیا؟

جو جانی مدد کرسکتا تھا، اس نے یہ فریضہ کیوں ادا نہیں کیا؟


ہم سب... ہاں، ہم سب...

کیا جواب دیں گے اُس دن؟

جب مظلوموں کی فریادیں گونجیں گی،

جب ان کے خون کے قطرے انصاف مانگیں گے،

اور ہماری بےحسی کا پردہ چاک ہوگا۔

مجھے ڈر ہے کہ ہم کہیں اُس غضب کا شکار نہ ہو جائیں،

جس سے بچنے کی کوئی راہ نہیں۔

اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔

ہمارے اس تحریر کے کچھ اہم نکات

* **روزِ قیامت کا حساب:** آپ نے روزِ قیامت کے حساب کے بارے میں بہت اچھا بیان کیا ہے۔ کہ ہر انسان کو اس کی استطاعت کے مطابق جواب دینا ہوگا۔

* **مظلوموں کی مدد:** آپ نے مظلوموں کی مدد کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں مظلوموں کی آواز بننا چاہیے۔

* **اللہ کا انتقام:** آپ نے اللہ کے انتقام کے بارے میں خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ظالموں کو سزا ضرور ملے گی۔

* **ہماری ذمہ داری:** آپ نے ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کی یاد دلائی ہے اور کہا ہے کہ ہمیں مظلوموں کی مدد کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔

ہمارے اس تحریر سے اپ لوگوں نے کیا سبق حاصل کی

* ہمیں مظلوموں کی مدد کرنی چاہیے۔

* ہمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔

* ہمیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اس کی اطاعت کرنی چاہیے۔

* ہمیں آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔

ہمارے اس تحریر کو پڑھنے کے بعد اپ کو کیا کرنا چاہیے اپ کی کیا ذمہ داری ہے اپ کیا سوچتے ہیں

* ہمیں مظلوموں کے لیے دعا کرنی چاہیے۔

* ہمیں مظلوموں کی مدد کے لیے مالی امداد فراہم کرنی چاہیے۔

* ہمیں مظلوموں کے بارے میں آگاہی پھیلانی چاہیے۔

* ہمیں اپنے حکمرانوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ مظلوموں کی مدد کریں۔

* ہمیں خود بھی مظلوموں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔


* اس موضوع پر مزید معلومات کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے؟

* اس مضمون کو کس طرح لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے؟

* اس مسئلے کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟



Comments

Popular posts from this blog

عقل، سکون اور بہترین کارکردگی

      عقل، سکون اور بہترین کارکردگی                              ایک شخص جو کتوں کی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کرواتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مقابلے میں ایک چیتے کو شامل کیا۔۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چیتا خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ ‏جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی۔۔ مالک نے دلچسپ جواب دیا: کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔ ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ 🤲 اے خداوند متعال ہمیں خود کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما اور معاشرے میں بہترین کارکردگی دکھانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ یہ واقعہ ایک گہری نصیحت اور حکمت پر مبنی ہے، جو ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ چیتے کی مثال دراصل ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی...

وہ سختیاں جو آج سکون کا سبب ہیں

 اج پتہ لگا استاد جی ہمارا ذہنی دباؤ کم کر رہے ہوتے تھے اس تصویر میں نظر آنے والی پوزیشن کو انگریزی میں "Forward Bend" یا "Stooping Position" کہا جا سکتا ہے۔ اگر یہ خاص جسمانی ورزش یا پوسچر سے متعلق ہو تو اسے "Standing Ikram Ullah Khan Yousafzai  Forward Fold" بھی کہا جاتا ہے۔ اس پوزیشن میں جھکنے اور جسم کو کھینچنے کی حرکت انسانی جسم کو مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ نیچے اس کے فوائد درج کیے گئے ہیں، جنہیں مختلف ماہرین اور تحقیقی جریدوں میں تسلیم کیا گیا ہے: 1. ریڑھ کی ہڈی کی لچک میں اضافہ یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کو کھینچتی ہے اور انہیں مضبوط بناتی ہے، جس سے جسمانی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے تناؤ کو کم کرتی ہے اور پیٹھ کے درد میں آرام فراہم کرتی ہے (Journal of Yoga and Physical Therapy)۔ 2. خون کے دوران میں بہتری جھکنے کی وجہ سے خون کا بہاؤ سر کی طرف بڑھتا ہے، جو دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔ یہ مشق دماغی سکون اور توجہ میں مددگار ثابت ہوتی ہے (American Journal of Physiology) 3. ...

عملی زندگی میں ذمّہ داری اور غرور

 ذمّہ داری اور غرور میں بنیادی فرق رویے اور نیت کا ہے: 1. ذمّہ داری (Responsibility) ذمّہ دار شخص اپنے فرائض کو ایمانداری، دیانت داری اور احساسِ فرض کے ساتھ پورا کرتا ہے۔ وہ دوسروں کی بہتری اور فلاح کو مدِنظر رکھتا ہے اور اپنے کام کے نتائج کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اپنی کامیابیوں پر شکرگزار ہوتا ہے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتا ہے۔ عاجزی اور برداشت اس کی شخصیت کا حصہ ہوتے ہیں۔ 2. غرور (Arrogance/Pride) مغرور شخص اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے اور اپنی کامیابیوں کو محض اپنی قابلیت کا نتیجہ مانتا ہے۔ وہ دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے اور ان کی آراء کو نظر انداز کرتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ خود کو عقلِ کل سمجھنے کا رویہ اپناتا ہے اور نصیحت قبول کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ نتیجہ ذمّہ داری انسان کو مضبوط اور باوقار بناتی ہے، جبکہ غرور اسے تنہائی، نفرت اور زوال کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک ذمّہ دار انسان عزت کماتا ہے، جبکہ مغرور شخص رفتہ ر فتہ اپنی عزت کھو دیتا ہے۔ ذمّہ داری اور غرور میں بنیادی فرق کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے ان کی وجوہات، اث...