*السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ ﷲِ وَبَرَكـَـاتُه*
یااللہ جل شانہ'
"معاف فرما مجھے یاخدا ! بخش دے
تیرا ھو جاؤں اپنی رضا بخش دے
میں سیاہ کار کتنا گناہ گار ھوں
جانتا ھے تو ھر اک خطا ،بخش دے
امتی ھوں ترے پیارے محبوبؐ کا
انؐ کا نقشِ قدم راستہ بخش دے
جو ھو تیری رضا...ھو مری وہ ادا
جو ھو مقبول ھر وہ دعاء بخش دے
تجھ سے مانگا کروں ۔۔ مانگتا ہی رہوں
یوں دعاؤں کو میری ۔۔ بقا بخش دے
مجھ کو یا رب ! نہ محتاجِ مخلوق کر
ایسی خود داری ۔۔ ایسی انا بخش دے
تیرا ذکر و بیاں بس ھو وردِ زباں
شرفِ تعریف و حمد و ثنا بخش دے
آنکھ نم ھے مری ، لب پہ فریاد ھے
آج "طاھر" کو یارب ! جزا بخش دے"
آج " طاہر " کو یارب ! جزا بخش دے
*اے ﷲ !* تو میرے دین کو سنوار دے جو میرے معاملہ کا محافظ ہے ، میری دنیا سنوار دے جس میں میری معیشت ہے ، میری آخرت سنوار دے جہاں میں نے لوٹنا ہے، میری زندگی کو ہر بھلائی میں اضافہ کا سبب اور موت کو ہر برائی سے را حت کا سبب بنا دے۔
*آمیـــــن یارب العالمـــین یاارحم الراحـــمین*
وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُهُ
یہ دعا عاجزی، انکساری اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کے طلبگار ہونے کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس میں گناہوں کی معافی، دین و دنیا کی بھلائی، اور آخرت کی کامیابی کے لیے اللہ کے حضور عاجزانہ التجا کی گئی ہے۔
---
دعا کی خوبیاں اور وضاحت:
1. مغفرت اور معافی کی طلب:
یہ دعا اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی بخشش اور غلطیوں کی معافی کی درخواست کرتی ہے۔
"تیرا ہو جاؤں اپنی رضا بخش دے"
یہ جملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی اللہ کی رضا میں ہے اور اس کے لیے ہمیں اپنی زندگی کو اس کے حکم کے مطابق گزارنا ہوگا۔
2. حضور ﷺ کی محبت کا اظہار:
"امتی ہوں ترے پیارے محبوبؐ کا"
اس شعر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ محبت اور ان کی پیروی کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم ان کے نقش قدم پر چلیں گے، تو اللہ کی رضا حاصل کر سکیں گے۔
3. دعا اور عاجزی:
"تجھ سے مانگا کروں، مانگتا ہی رہوں"
یہ الفاظ انسان کی عاجزی اور اللہ کے سامنے محتاجی کا اعتراف ہیں۔ اللہ سے مسلسل دعا کرنا اور اس سے اپنی ہر ضرورت کے لیے رجوع کرنا ایمان کی علامت ہے۔
4. خود داری اور خود مختاری کی دعا:
"مجھ کو یا رب نہ محتاجِ مخلوق کر"
یہ جملہ دعا ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنے اور مخلوق سے بے نیاز ہونے کا سبق دیتا ہے۔ اپنی ضروریات کے لیے صرف اللہ سے رجوع کرنے کی تربیت فراہم کرتا ہے۔
5. ذکر و شکر کا جذبہ:
"تیرا ذکر و بیاں بس ہو وردِ زباں"
یہ دعا ہمیں اللہ کے ذکر اور شکر کا درس دیتی ہے۔ زبان پر ہمیشہ اللہ کی تعریف اور حمد جاری رہنی چاہیے کیونکہ یہ اللہ کی رضا اور قربت کا راستہ ہے۔
6. دنیا و آخرت کی بھلائی:
"میری دنیا سنوار دے جس میں میری معیشت ہے"
اس دعا میں دنیاوی اور دینی معاملات کی بہتری کے لیے اللہ سے مدد مانگی گئی ہے۔ ساتھ ہی آخرت کی کامیابی کے لیے عاجزانہ درخواست کی گئی ہے۔
7. موت کو راحت کا سبب بنانا:
"موت کو ہر برائی سے راحت کا سبب بنا دے"
یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ موت ایک حقیقت ہے اور ہم سب کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ موت ہمارے لیے برائیوں سے نجات اور دائمی سکون کا ذریعہ بنے۔
نتیجہ:
یہ دعا اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ، نبی کریم ﷺ کی پیروی کی خواہش، اور دنیا و آخرت کی بھلائی کی طلب کا ایک جامع نمونہ ہے۔ اس میں انسان کی عاجزی، اللہ کی رحمت پر یقین، اور گناہوں کی معافی کی آرزو کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو یہ دعا کرنے اور اسے سمجھ کر عمل ک
رنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین!

Comments