Skip to main content

کسی پر فیصلہ صادر کرنے سے گریز


 یہ اقتباس ایک اہم سبق پر روشنی ڈالتا ہے، جو انسان کے اعمال، انجام، اور اللہ کی رحمت کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرتا ہے۔ اس میں درج ذیل نکات وضاحت کے قابل ہیں:
1. انجام کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے:
حدیث اور اس قول سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی شخص کے جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ اس کے آخری عمل پر ہوتا ہے۔ ایک شخص جو پوری زندگی نیک رہا ہو، وہ آخری لمحات میں گمراہ ہو سکتا ہے، اور ایک گناہگار شخص آخری لمحے میں اللہ کی رحمت سے معززین میں شامل ہو سکتا ہے۔
2. عاجزی اختیار کریں:
انسان کو اپنی رائے اور فیصلے پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ کسی کو اچھا یا برا کہنا، یا اس کے انجام کا فیصلہ کرنا، اللہ کا اختیار ہے۔ ہمیں کسی کے اعمال یا ماضی کے بارے میں جلد بازی سے رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔
3. معزز مقامات اور شخصیات کی عزت:
اس اقتباس میں بری امام رحمۃ اللہ علیہ جیسے بزرگوں کا ذکر ہے۔ ان مقامات یا شخصیات کا ادب و احترام کرنے کو کہا گیا ہے، کیونکہ ان کے گزرنے سے وہ جگہیں معزز ہو چکی ہیں۔ یہ ایک تربیتی نکتہ ہے کہ اللہ کے برگزیدہ بندوں کی تعظیم ہمیں خود عزت عطا کرتی ہے۔
4. دعائیں اور نیتیں:
اللہ سے دعا کریں کہ ہمیں بھی انعمت علیھم (جن پر اللہ کا انعام ہوا) کے زمرے میں شامل کرے۔ جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے دعا کی تھی: شریکِ زُمرہٓ لا یحزنوں کر۔ یہ دعا ان لوگوں میں شامل ہونے کی خواہش ہے جن پر نہ خوف ہوگا نہ غم۔
5. رازِ الٰہی کی قبولیت:
اللہ کے فیصلے اور راز ہماری عقل سے بالاتر ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جو معززین ہیں، وہ اپنی عزت کما چکے ہیں، اور ہمیں ان کی عزت کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے، بجائے اس کے کہ ان پر سوال اٹھائیں
خلاصہ:
یہ تعلیم ہمیں عاجزی، شعور، اور اللہ کی رحمت پر بھروسہ کرنے کی طرف راغب کرتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ انسان کو کسی کی زندگی یا انجام پر فیصلہ نہیں سنانا چاہیے، بلکہ خود کو بہتر بنانے اور اللہ سے معززین کے زمرے میں شاملو نے کی دعا کرنی چاہیے۔
یہ اقتباس ایک روحانی اور فکری گفتگو ہے، جو انسان کو عاجزی، شعور، اور اللہ کی بے پایاں رحمت پر بھروسہ کرنے کا درس دیتا ہے۔ اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. انسان کی انجام سے پہلے کسی کی تقدیر پر فیصلہ نہ کریں:
حدیثِ شریف میں بیان کیا گیا ہے کہ:
ایک شخص اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ سکتا ہے، لیکن وہ جہنم میں جا سکتا ہے۔
اسی طرح، ایک شخص اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ ہو سکتا ہے، اور وہ جنت میں داخل ہو سکتا ہے۔
یہ واضح کرتا ہے کہ کسی انسان کی آخری حالت ہی اس کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہے۔
سبق:
ہمیں کسی کے اعمال یا حالیہ حالات کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ کا فیصلہ اس کے علم اور حکمت پر مبنی ہے۔
2. اللہ کی رحمت اور ہدایت کا راز:
اللہ کسی گمراہ شخص پر ایسی رحمت فرما سکتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے معززین میں شامل ہو جائے۔
اسی طرح، ایک عالم دین جو زندگی بھر علم کی روشنی پھیلائے، گمراہی کی حالت میں فوت ہو سکتا ہے۔
یہ بات ہمیں اللہ کی حکمت اور فیصلوں کے بارے میں سوچنے اور ان پر مکمل بھروسہ کرنے کی تلقین کرتی ہے۔
پیغام:
ہمیں عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ کی رحمت کے طلب گار رہنا چاہیے۔
3. معززین اور مقدس مقامات کی تعظیم:
جہاں جہاں معززین گزرے ہوں، وہ جگہیں بابرکت اور قابلِ احترام ہو جاتی ہیں۔ جیسے بری امام رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کیا گیا۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ان مقامات اور شخصیات کی تعظیم کرنا خود ہماری عزت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
تعلیم:
گزرے ہوئے معززین کو غیر معزز ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔ وہ اپنی عزت کما چکے ہیں اور ہمیں ان کی تعظیم کرنی چاہیے۔
4. انعمت علیھم کا تصور:
قرآن پاک میں انعمت علیھم (جن پر اللہ نے انعام کیا) کا ذکر ہے۔ ان لوگوں کی صف میں شامل ہونے کے لیے دعا اور کوشش کرنا انسان کے لیے سب سے اعلیٰ مقصد ہونا چاہیے۔
اقبالؒ نے اللہ سے دعا کی تھی:
شریکِ زمرہٓ لا یحزنون کر
یعنی مجھے ان لوگوں میں شامل کر جو خوف اور غم سے آزاد ہیں۔
اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے:
لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون
(نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔)
نصیحت:
ان لوگوں کی صف میں شامل ہونے کی کوشش کریں جنہیں اللہ نے عزت عطا کی ہے اور جو آخرت میں کامیاب ہیں۔
5. اللہ کی حکمت اور راز:
اللہ کے فیصلے اور راز انسان کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جو معززین بن چکے ہیں، وہ اللہ کے فیصلے کے مطابق معزز ہیں، اور ہمیں ان کی عزت کرنی چاہیے۔
ان مقامات کی تعظیم کریں جہاں سے اللہ کے نیک بندے گزرے ہوں۔
نتیجہ:
عزت دینا اور عاجزی اختیار کرنا ہی اصل شعور ہے۔
6. اختتامیہ دعا:
آخر میں، سرکار واصف علی واصف رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اللہ سے ہمیشہ دعا کریں کہ وہ ہمیں معززین کے زمرے میں شامل کرے۔
دعا:
اے اللہ! ہمیں انعمت علیھم کے زمرے میں شامل کر، جہاں خوف اور غم نہ ہو، اور ہمیں تیری رحمت اور بخشش سے معززین میں شامل کر۔
خلاصہ:
یہ اقتباس ہمیں عاجزی، اللہ کی رحمت پر یقین، اور معززین کی تعظیم کا درس دیتا ہے۔ یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ کسی کی زندگی کے فیصلے کرنا ہمارا کام نہیں، بلکہ ہمیں اپنی اصلاح پر توجہ دینی 
چاہیے اور اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے جنہیں اس نے عزت عطا کی۔
x

Comments

Popular posts from this blog

How strong is Wolverine compared to other Marvel characters?

 Wolverine's strength compared to other Marvel characters is a bit complex, as it depends on what area of "strength" you're asking about. Here's a breakdown: **Physical Strength:** * **Officially:** Classified as a **level 4** on the Marvel Power Grid, meaning he can lift about **800 lbs to 25 tons**. This puts him in the **lower half of the "superhuman" strength category**. * **Compared to:** Many other mutants and superheroes have significantly higher physical strength, like Hulk, Thor, Colossus, etc. However, his adamantium skeleton does grant him an edge in certain situations, like withstanding immense pressure or piercing durable materials. **Regeneration:** * **Arguably his greatest strength:** Wolverine's **mutant healing factor** is practically unmatched. He can regenerate from almost any injury, including impalement, organ damage, and even decapitation. This makes him extremely difficult to defeat in a battle of attrition. * **Compared to:**...

معمولی اختلافات کا سنگین انجام

 جوائنٹ فیملی سے تعلق رکھنے والے سبھی سنجیدہ افراد ضرور پڑھیں۔ style="text-align: right;">ایک عورت صبح اٹھی، فریج میں پڑے انڈے اٹھائے، ناشتہ بنایا، خود کھایا، شوہر کو دیا، شوہر اپنے کام پر چلا گیا، عورت اپنے کام پر چلی گئی۔ چند گھنٹوں بعد شوہر نے بیوی کو کال کرکے کہا کہ گھر پہ تھوڑا مسئلہ ہوگیا ہے، تم آج سیدھی امی کی طرف چلی جانا۔ میں معاملہ نمٹا کر تمہیں لے آؤں گا۔۔۔۔ بیوی نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو شوہر ٹال گیا، لیکن بیوی کے اصرار کرنے پر اس نے بتا دیا کہ صبح جو تم نے فریج سے انڈے لے کر بنائے تھے وہ امی نے باجی کے لیے منگوا کر رکھے تھے۔ امی کو لگتا ہے تم نے وہ جان بوجھ کر اٹھا کر استعمال کیے ہیں۔ امی تھوڑی ناراض ہیں۔ تم اپنی امی کی طرف چلی جانا، میں گھر جا کر معاملہ سلجھا کر شام تک تمہیں لے آؤں گا۔ لیکن عورت نے شوہر کی بات نہ مانی۔ جاب سے سیدھی گھر گئی۔ جاتے ہوئے ایک درجن انڈے لیتی ہوئی گئی۔ گھر پہنچ کر انڈے لے جا کر ساس کے سامنے رکھے اور کہا ان انڈوں کی وجہ سے آپ نے جھگڑا کھڑا کیا تھا ناں؟ دو اٹھائے تھے بارہ لے کر آئی ہوں۔ شوہر بھی یہ سب سن رہا تھا۔ ساس نے بیٹے کو آو...

تعلق بچانے کا حوصلہ: ایک انمول نعمت

*یہ جو آپ لہجوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں، کیا یہ رزق نہیں........ کیا یہ نعمت نہیں*..... *.ہر بار جھک کر آپ تعلق بچا لیتی ہیں،* *یہ کسی نعمت سے کم تھوڑی ہے*.......*یہ ایسا رزق ہے جس سے دنیا میں آپ عزت آخرت میں اجر کمائیں گی ۔ہم رزق کی تلاش میں صبح شام مارے مارے پھرتے ہیں.............* *ضروریاتِ سے زائد کی خواہش جنم لیتی ہے اور جب وہ خواہش پوری نہ ہو تو ذہنی اذیت میں مبتلا رہنا ہمارا معمول بن جاتا ہے۔* *اس لمحے اپنی ذات کی خوبیوں پہ نظر تو ڈالیں۔* *آپ کا صبر....... آپ کی قربانی...... آپ کا اخلاق..... آپ کا کردار......... آپ کی قناعت.....دنیا سے بے رغبتی......... قرآنِ کریم سے دوستی........*یہ ایسا رزق ہے*.... جس کا فائدہ تو دوگنا ہے........* *آپ جیسا سمجھدار تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا.... کہ آپ دنیا بھی کما رہیے ہیں اور مستقبل کے لیے بچت بھی کر رہیے ہیں......*. *جن نعمتوں سے محروم رہ کر آپ صبر کر رہیے ہیں*... *کیا اس صبر کی توفیق اس انسان کے پاس موجود ہے جو ان نعمتوں سے مالا مال ہے............* *جو آنسو محرومی کے وقت نکلتا ہے. ... وہ دنیا کی مدہوشی میں آج کے دور میں شک...