Skip to main content

یہ سعودی عرب کے دارالحکومت " ریاض " شہر کا واقعہ ہے


یہ نہر ہی تو ہے___________!!! یہ سعودی عرب کے دارالحکومت " ریاض " شہر کا واقعہ ہے۔ ایک نیک خاتون رمضان المبارک کے مہینے میں ہر روز افطار سے پہلے تمام بچوں کو اکٹھا کرتی اور ان سے کہتی کہ جو کچھ میں کہوں اور کروں، تم بھی وہی کہنا اور کرنا، پھر وہ دعا کیلئے ہاتھ اٹھاتی اور کہتی... " ہمیں اپنا گھر عطا کر جس کے آگے ایک نہر ہو۔" تمام بچے بھی ہاتھ اٹھاتے اور کہتے"الٰہی ہمیں اپنا گھر عطا کر جس کے آگے نہر ہو۔" اس خاتون کا شوہر ہنستا اور کہتا:" اپنے گھر کی بات تو سمجھ آتی ہے لیکن یہ گھر کے آگے نہر ہونے کا کیا مطلب ؟ اس صحرائی علاقے میں نہر کہاں سے آئے گی؟" بیوی اسے جواب دیتی :" آپ کو اس سے کیا غرض ! یہ ہمارا اور اللّٰہ تعالٰی کا معاملہ ہے۔ آپ بیچ میں مت آئیے۔" ....وہ رب تو کہتا ہے:" مجھ سے مانگو ، میں عطا کرونگا۔" ہم تو جو جی میں آئے گا ، مانگیں گے، اور بار بار مانگیں گے۔" غرض وہ اسی طرح بچوں کو اکھٹا کرتی اور خود بھی دعا کرتی اور بچوں سے بھی کرواتی..رمضان المبارک بیت گیا۔ ایک دن اس کے شوہر نے کہا" اب بتاؤ ، کہاں ہے تمہارا اپنا گھر ، اور کہاں ہے وہ نہر؟" خاتون نے بڑے یقین سے جواب دیا:" اللّٰہ تعالٰی ہمیں ہمارا گھر ضرور دے گا، وہ ہماری تمام مرادیں پوری کرے گا۔" اس سے اگلا واقعہ وہ خود بیان کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ : "میں شوال کے چھ روزے رکھ کر فارغ ہوئی تھی کہ ایک روز بڑا عجیب واقعہ پیش آیا۔" "میرے شوہر عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے کہ ریاض کے ایک امیر آدمی نے ان کا راستہ روکا ) میرے شوہر انھیں جانتے تک نہ تھے( اس آدمی نے انہیں سلام کیا اور کہا۔".. "میرے پاس ایک گھر ہے آدھے گھر میں تو میں اپنے والد کے ساتھ رہتا ہوں ، گھر کا دوسرا نصف خالی پڑا ہے، اللّٰہ تعالٰی نے مجھے اور میری اولاد کو اپنے فضل وکرم سے بہت نوازا ہے، ہمیں اس آدھے گھر کی ضرورت نہیں ، آج اس ارادے سے گھر سے نکلا تھا کہ نماز عصر کے بعد مسجد سے نکلنے والے پہلے آدمی کو میں وہ آدھا گھر دے دونگا۔ یوں آپ سے ملاقات ہوئی تو گزارش ہے کہ میرا آدھا گھر ھدیتہً قبول فرمالیں۔" بلا قیمت مکان لیتے ہوئے ہمیں تردد ہوا، وہ صاحب کہنے لگے، اگر آپ کی تسلی قیمت دئیے بغیر نہیں ہوتی تو جتنی رقم آپ آسانی سے دے سکتے ہیں ، دے دیجئے.... خیر ہم نے کچھ اپنے پاس اور کچھ ادھر ادھر سے جو رقم اکٹھی کی وہ کم وبیش 8 ہزار ریال بن گئے، وہ رقم ہم نے اس آدمی کے حوالے کردی، اب ہم اس آدھے مکان کے مالک بن گئے تھے۔ مکان "ریاض " کے ایک ماڈرن علاقے میں واقع تھا۔ سچ ہے کہ جو انسان سچے دل سے اللّٰہ تعالٰی کو پکارتا ہے، اللّٰہ تعالٰی اس کیُ پکار ضرور سنتا ہے... لیکن ! ایک بات نے مجھے پریشان کر رکھا تھا، میں نے اللّٰہ سے جو گھر مانگا تھا اس کے آگے نہر ہونی تھی ، مکان تو مل گیا پر اس کے آگے نہر نہیں تھی..؟ میں نے ایک عالم دین سےپوچھا کہ اللّٰہ تعالٰی تو فرماتا ہے کہ مجھ سے مانگو میں تمہیں عطا کرونگا۔ میں نے اللّٰہ سے نہر کنارے گھر مانگا تھا ۔ گھر تو مل گیا، نہر نہیں ملی... ان عالمِ دین کو میری دعا اور میرے ایقانِ قبولیت پر بڑی حیرت ہوئی ، انہوں نے دریافت کیا : "اسوقت آپ کے گھر کے سامنے کیا ہے؟" میں نے کہا: " اسوقت ہمارے گھر کے سامنے ایک خوبصورت مسجد ہے" عالمِ دین مسکرائے اور فرمایا: "یہ نہر ہی تو ہے" پھر انہوں نے مجھ سے یہ حدیثِ مبارکہ بیان کی کہ... حدیث میں نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ : "آدمی کا گھر نہر کنارے ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر میل کچیل رہے گا؟ "صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہما نے جواب دیا : "نہیں یا رسول اللّٰہ اس کے بدن پر میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔" فرمایا:" یہی حال پانچ نمازوں کا ہے، ان کے ذریعہ اللّٰہ تعالٰی گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے۔" میری آنکھوں سے خوشی اور تشکر کے آنسو روا تھے، بیشک میرے رب نے نہر کے سامنے گھر عطا کردیا تھا..... سبحان اللّٰہ وبحمدہ، سبحان اللّٰہ العظیم...
x

Comments

Popular posts from this blog

عقل، سکون اور بہترین کارکردگی

      عقل، سکون اور بہترین کارکردگی                              ایک شخص جو کتوں کی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کرواتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مقابلے میں ایک چیتے کو شامل کیا۔۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چیتا خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ ‏جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی۔۔ مالک نے دلچسپ جواب دیا: کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔ ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ 🤲 اے خداوند متعال ہمیں خود کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما اور معاشرے میں بہترین کارکردگی دکھانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ یہ واقعہ ایک گہری نصیحت اور حکمت پر مبنی ہے، جو ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ چیتے کی مثال دراصل ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی...

وہ سختیاں جو آج سکون کا سبب ہیں

 اج پتہ لگا استاد جی ہمارا ذہنی دباؤ کم کر رہے ہوتے تھے اس تصویر میں نظر آنے والی پوزیشن کو انگریزی میں "Forward Bend" یا "Stooping Position" کہا جا سکتا ہے۔ اگر یہ خاص جسمانی ورزش یا پوسچر سے متعلق ہو تو اسے "Standing Ikram Ullah Khan Yousafzai  Forward Fold" بھی کہا جاتا ہے۔ اس پوزیشن میں جھکنے اور جسم کو کھینچنے کی حرکت انسانی جسم کو مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ نیچے اس کے فوائد درج کیے گئے ہیں، جنہیں مختلف ماہرین اور تحقیقی جریدوں میں تسلیم کیا گیا ہے: 1. ریڑھ کی ہڈی کی لچک میں اضافہ یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کو کھینچتی ہے اور انہیں مضبوط بناتی ہے، جس سے جسمانی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے تناؤ کو کم کرتی ہے اور پیٹھ کے درد میں آرام فراہم کرتی ہے (Journal of Yoga and Physical Therapy)۔ 2. خون کے دوران میں بہتری جھکنے کی وجہ سے خون کا بہاؤ سر کی طرف بڑھتا ہے، جو دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔ یہ مشق دماغی سکون اور توجہ میں مددگار ثابت ہوتی ہے (American Journal of Physiology) 3. ...

عملی زندگی میں ذمّہ داری اور غرور

 ذمّہ داری اور غرور میں بنیادی فرق رویے اور نیت کا ہے: 1. ذمّہ داری (Responsibility) ذمّہ دار شخص اپنے فرائض کو ایمانداری، دیانت داری اور احساسِ فرض کے ساتھ پورا کرتا ہے۔ وہ دوسروں کی بہتری اور فلاح کو مدِنظر رکھتا ہے اور اپنے کام کے نتائج کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اپنی کامیابیوں پر شکرگزار ہوتا ہے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتا ہے۔ عاجزی اور برداشت اس کی شخصیت کا حصہ ہوتے ہیں۔ 2. غرور (Arrogance/Pride) مغرور شخص اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے اور اپنی کامیابیوں کو محض اپنی قابلیت کا نتیجہ مانتا ہے۔ وہ دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے اور ان کی آراء کو نظر انداز کرتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ خود کو عقلِ کل سمجھنے کا رویہ اپناتا ہے اور نصیحت قبول کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ نتیجہ ذمّہ داری انسان کو مضبوط اور باوقار بناتی ہے، جبکہ غرور اسے تنہائی، نفرت اور زوال کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک ذمّہ دار انسان عزت کماتا ہے، جبکہ مغرور شخص رفتہ ر فتہ اپنی عزت کھو دیتا ہے۔ ذمّہ داری اور غرور میں بنیادی فرق کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے ان کی وجوہات، اث...